بنیادی صفحہ / صوبائی / کرناٹک كے سیاسی بحران کے لئے کھڑگے نے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا

کرناٹک كے سیاسی بحران کے لئے کھڑگے نے بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا

Print Friendly, PDF & Email

بنگلور: کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے نے کرناٹک کے موجودہ سیاسی بحران کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی قیادت اور مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاست کے جمہوری طور پر منتخب حکومت کو غیر مستحکم کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ کانگریس اور جنتا دل (سیکولر) کے جن ممبران اسمبلی نے استعفیٰ دیا ہے، وہ ایک بار اپنے فیصلہ پر غور كریں گے۔ کھڑگے نے اتوار کو یہاں صحافیوں سے کہا ’’میں ان غیر مطمئن ممبران اسمبلی سے ملنے کی کوشش کر رہا ہوں اور ان کی شکایات پر غور کروں گا‘‘۔

 انہوں نے کہا کہ ان ممبران اسمبلی کے استعفی کے پیچھے مرکز کی بی جے پی حکومت اور ریاست کے بی جے پی لیڈر ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ان غیر مطمئن ممبران اسمبلی کو چارٹرڈ طیارے سے کرناٹک سے ممبئی منتقل کر دیا گیا اور اس کا پورا انتظام بی جے پی لیڈروں نے کیا تھا۔

کھڑگے نے یہاں صحافیوں كو بتایا ’’اسمبلی اسپیکر کے این رمیش کمار نے ابھی تک ان اراکین اسمبلی کے استعفوں کو منظور نہیں کیا ہے اور کئی ممبران اسمبلی اپنا فیصلہ تبدیل کر سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا’’میں نے کچھ غیرمطمئن ممبران اسمبلی سے بات چیت کی ہے، وہ کانگریس چھوڑ کر کہیں اور جانے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ کانگریس پارٹی تمام ممبران اسمبلی کو وہپ جاری کرے گی اور 12 جولائی كو طلب کئے گئے اسمبلی سیشن میں تمام ممبران اسمبلی سیشن میں حصہ لیں گے‘‘۔

 دریں اثنا کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے ’یو این آئی‘ کو بتایا ’’اگر کھڑگے ریاست کی باگ ڈور سنبھالتے ہیں تو حیدرآباد- کرناٹک علاقے کے کچھ بی جے پی رکن اسمبلی بھی کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں‘‘۔

اس پورے سیاسی واقعات سے نمٹنے کے لئے کانگریس کے اعلی رہنماؤں کی میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے اور کانگریس جنرل سکریٹری اور کرناٹک معاملات کے انچارج کے سی وینوگوپال کے آج رات گوڑا اور وزیر اعلی سے ملاقات کرنے کی امید ہے۔ گوڑا نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ جب 2018 میں مخلوط حکومت کے قیام کی تجویز سامنے آئی تھی تو انہوں نے وزیر اعلی کے عہدہ کے لئے کھڑگے کے نام کا مشورہ دیا تھا۔

x

Check Also

کانگریس کےسینئررہنما شیوکمارگرفتار

نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے چاردنوں تک چلنے والی طویل تفتیش کے بعد ...