بنیادی صفحہ / صوبائی / لاؤڈ اسپیکر تنازع: اذان کے خلاف احتجاجاً ہنومان چالیسہ کا جاپ کرنے والے شری رام سینا کے کئی کارکنان گرفتار

لاؤڈ اسپیکر تنازع: اذان کے خلاف احتجاجاً ہنومان چالیسہ کا جاپ کرنے والے شری رام سینا کے کئی کارکنان گرفتار

Print Friendly, PDF & Email

بنگلورو: سری رام سینا کے کئی کارکنوں کو منگل کے روز کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو میں مسجدوں سے اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے خلاف ہنومان چالیسہ کا جاپ کرنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ اس دوران شری رام سینا کے 10 سے زائد کارکنان جو مختلف مقامات پر ہنومان چالیسہ کا جاپ کر رہے تھے، پولیس نے گرفتار کر لیا۔

اشوک نگر تھانے کی پولیس نے شری رام سینا کے کارکنوں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ صبح 5 بجے شانتی نگر اسمبلی حلقہ کے وویک نگر کے نزدیک ہنومان مندر میں مائک کے ذریعہ ہنومان چالیسہ کا جاپ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پولیس نے شری رام سینا کے کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی تو دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی۔

واضح رہے کہ شری رام سینا کے بانی پرمود متالک نے ریاستی حکومت کو کرناٹک میں اذان دینے والے لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے 9 مئی کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔ اس کے بعد انہیں اپنی تحریک تیز کرنے کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔ لیکن جب ریاستی حکومت نے الٹی میٹم اور وارننگ کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی تو ہندو تنظیموں نے آج صبح مندر میں ہنومان چالیسہ کا جاپ اور صبح بھجن گانے پر تیار ہوگئے۔

شری رام سینا کے سکریٹری گنگادھر کلکرنی نے دہرایا کہ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بومئی حکومت ایک طرح سے ان لوگوں کی حمایت کر رہی ہے جنہوں نے عدالت کے حکم کی تعمیل نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ شری رام سینا اس معاملے پر شدید لڑائی کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو یہاں شری رام سینا کے سربراہ متالک کی قیادت میں ایک اہم میٹنگ ہونے جا رہی ہے جس میں 20 سے زائد ہندو تنظیموں کے رہنما شرکت کریں گے اور آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*