بنیادی صفحہ / صوبائی / کرناٹک میں بجٹ 2020-21 کی تیاریاں، وزیراعلی یڈیورپا نے مسلم نمائندوں کے ساتھ کی میٹنگ

کرناٹک میں بجٹ 2020-21 کی تیاریاں، وزیراعلی یڈیورپا نے مسلم نمائندوں کے ساتھ کی میٹنگ

Print Friendly, PDF & Email

بنگلورو۔ کرناٹک کے وزیراعلی بی ایس یڈیورپا وزیرخزانہ کی حیثیت سے5 مارچ کو ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کرنے والے ہیں۔ بجٹ کی تیاری کیلئے وزیر اعلی ان دنوں سلسلہ وار میٹنگیں کر رہے ہیں۔ بجٹ کے پیش نظر عوام کے مطالبات کو جاننے کیلئے مختلف طبقوں، مختلف تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ  وزیراعلی کی میٹنگیں جاری ہیں۔ اسی سلسلہ کے تحت وزیراعلی نے ودھان سودھا میں مسلم طبقہ کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں مسلم ارکان اسمبلی،ارکان کونسل، اقلیتی محکموں کے چیرمینوں، افسروں نے شرکت کی۔ سابق ریاستی وزیر آرروشن بیگ نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔

معاشی گراوٹ کے سبب یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ آنے والے بجٹ میں وزیراعلی مختلف محکموں کے فنڈ میں کٹوتی کر سکتے ہیں۔ مسلم طبقہ کے نمائندوں نے وزیراعلی سے درخواست کی ہے کہ وہ اقلیتی محکمہ کے بجٹ میں کسی بھی طرح کی کٹوتی نہ کریں۔ میٹنگ کے دوران مسلم لیڈروں نے کہاکہ اقلیتی محکمہ کا موجودہ بجٹ تقریبا تین ہزارکروڑ ہے، اس بجٹ کو بحال رکھتے ہوئے حکومت مزید فنڈ ریاست کے نئے بجٹ میں مختص کرے۔ مسلم لیڈروں نے وزیر اعلی سے درخواست کی ہےکہ حکومت اقلیتوں کی تمام اسکیموں کو جاری رکھتے ہوئے نئی اسکیمیں شروع کرے۔ اقلیتی طلبا کی اسکالرشپ کے مسئلہ پر بھی میٹنگ میں گفتگو ہوئی۔

گزشتہ سال کرناٹک میں اقلیتی طلبا کو تاخیر سے اسکالرشپ فراہم کی گئی ہے۔ چند اسکالرشپ کی اسکیموں میں کمی بھی کی گئی ہے۔  اس موقع پر کرناٹک ریاستی وقف بورڈ نے وزیراعلی کو میمورنڈم پیش کیا۔ وقف بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر محمد یوسف نے کہاکہ انہوں نے وقف بورڈ کے سالانہ گرانٹ کو125کروڑسے بڑھا کر198کروڑ روپئے کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ وقف املاک کی ترقی کیلئے85کروڑروپئے خصوصی گرانٹ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیاہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف نے کہاکہ ریاستی وقف بورڈ نے وقف اراضی پر غریب خاندانوں کیلئے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبہ کیلئے ہاؤسنگ اسکیم کے تحت75کروڑروپئے فراہم کرنے کی ریاستی حکومت سے مانگ کی گئی ہے۔

 وقف بورڈ کے چیرمین نے کہا کہ وقف بورڈ میں خالی138 اسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنے کا بھی ریاستی حکومت سے مطالبہ کیاگیا ہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف نے کہا کہ وزیراعلی نے وقف بورڈ کے مطالبات پرغور کرنے کا بھروسہ دلایا ہے۔ اس موقع پر بیدر کے شاہین تعلیمی ادارے کے خلاف وطن سے بغاوت کے مقدمہ کو واپس لینے کی بھی مسلم لیڈروں نے وزیراعلی سے درخواست کی۔ سی اے اے مخالف احتجاج کےدوران منگلورو فائرنگ میں ہلاک دو مسلم نوجوانوں کو معاوضہ فراہم کرنے کا بھی حکومت سے مطالبہ کیا گیا۔

میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں  سے بات کرتے ہوئے مسلم ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل نے وزیراعلی سے ہوئی ملاقات کو اطمینان بخش قرار دیا۔ رکن کونسل عبدالجبار نے کہا کہ وزیراعلی نے میٹنگ میں بھروسہ دلایا کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ پورا انصاف کریں گے۔ واضح رہے کہ کرناٹک میں 14ماہ کی کانگریس۔ جے ڈی ایس مخلوط حکومت کےگرنے کے بعد بی جے پی نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ہے۔ چند ماہ پہلے اقتدارحاصل کرنے والی بی جے پی حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے۔

x

Check Also

کرونا وائرس کو لے کر پوری ریاست کرناٹک میں لاک ڈاؤن

بنگلورو:23؍مارچ(ایجنسی) کروناوائرس کے مشتبہ افراد کی جانچ کے بعد مریضوں کی تعداد میں ...