بنیادی صفحہ / صوبائی / انڈیا ٹوڈے اوپینین پول؛ ریاست میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی

انڈیا ٹوڈے اوپینین پول؛ ریاست میں کانگریس سب سے بڑی پارٹی

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی۔14 اپریل (ایجنسی) کانگریس کے ہاتھ میں تقریباً 5سال سے کرناٹک کی کمان ہونے سے حکومت مخالف رجحان کے باوجود سب سے پرانی پارٹی جنوب کی اس ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے طورپر ایک بار پھر ابھرنے جارہی ہے ۔ حالانکہ ریاست کرناٹک میں سہ رخی اسمبلی انتخابات کے آثار نظر آرہے ہیں ۔’’انڈیا ٹوڈے۔کاروی انسٹائینز‘‘اوپنئن پول کے مطابق کانگریس جہاں اکثریت کے عدد سے کچھ ہی سیٹ پچھڑتی نظر آرہی ہے ۔وہیں اس بار 2013 اسمبلی انتخابات کے مقابلہ میں بی جے پی، پارٹی میں اتحاد کی بنیاد پر کچھ بہتر مظاہرہ کرتی نظر آرہی ہے ۔ بے روزگاری اور بدعنوانی جیسے موضوعات پر لوگوں کے غصہ سے جو نقصانات کانگریس کو ہورہے تھے ، اس کی کافی حد تک بھرپائی وزیراعلیٰ سدارامیا نے اپنے موجودہ دور حکومت کے آخری دور میں کئی اہم اقدامات کے ذریعہ کردی ہے ۔سدارامیا کو ریاست کے عوام نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنی پہلی پسندبھی تسلیم کیا ہے ۔ انڈیا ٹوڈے کاروی کی جانب سے 17مارچ اور15 اپریل کے درمیان کرناٹک کے سبھی 224 سیٹوں کے لئے کرائے گئے اوپنئن پول کے مطابق کانگریس 90 سے 101 سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرانے جارہی ہے ۔ اس پول کا اندازہ ہے کہ کانگریس کو 2013 میں ہوئے ریاستی اسمبلی انتخابات میں 37 فیصد ووٹ ملے تھے ۔اس بار بھی اتنے ہی ملنے کا امکان ہے ۔اس کے باوجود کانگریس ریاست میں اکثریت کیلئے ضروری 113 سیٹوں کے جادوئی ہدف سے کچھ پیچھے رہ جائے گی۔ جبکہ کانگریس نے 2013 انتخابات میں 122 سیٹوں پر جیت درج کرکے اکثریت حاصل کی تھی ۔ اوپنئن پول کے مطابق ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی بھی 2013 کے مقابلہ میں کہیں بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس کو کڑی ٹکر دیتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ مذکورہ پول کے مطابق کرناٹک میں بی جے پی کے کھاتے میں 78 سے 86 سیٹیں جاتی دکھ رہی ہیں۔ جبکہ 2013 میں اسے 40 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی ۔ حالانکہ اس وقت بی جے پی کا اپنا گھر ہی پورے طورپر منقسم تھا ۔اس وقت ایڈی یورپا نے اپنی الگ پارٹی بناکر انتخابات میں حصہ لیا تھا اور 6سیٹیں جیتی تھیں ۔اسی طرح سری راملو نے بھی بی جے پی سے الگ ہوکر بی ایس آر کانگریس پارٹی تشکیل دے کر انتخاب لڑا تھا جسے 4سیٹوں پر کامیابی ملی۔اس تناظر میں 2018 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی متحد نظر آرہی ہے ۔ اوپنئن پول کے مطابق بی جے پی کو 2013 کے 32.6 فیصد ووٹ شیئر(کے جے پی اور بی ایس آر سی بی ووٹ شیئر ملاکر) کے مقابلہ میں اس بار 35 فیصد ووٹ شیئر ملنے جارہا ہے ۔ جہاں تک ریاست میں تیسری طاقت مانی جانے والی پارٹی جنتادل سکیولر (جے ڈی ایس) کا سوال ہے، اوپنئن پول کے مطابق یہ پارٹی بی ایس پی جیسی اتحادی پارٹیوں کے ساتھ مل کر 34 سے 43 سیٹوں پر جیت حاصل کرنے جارہی ہے ۔2013 اسمبلی انتخابات میں جے ڈی ایس کو 40 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی ۔پول کے مطابق جے ڈی ایس /اتحادی کاووٹ شیئر گذشتہ اسمبلی انتخابات کے 21 فیصد سے گھٹ کر 19 فیصد ہونے کا امکان ہے ۔ 29 فیصد ووٹر مانتے ہیں کہ جے ڈی ایس کو کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں حکومت بنانی چاہئے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ سہ رخی مقابلہ میں جے ڈی ایس کنگ میکر کے طورپر سامنے نظر آسکتا ہے ۔ اوپنئن پول کے مطابق ریاست میں دیگر کو 4 سے 7 سیٹیں ملنے کا امکان ہے ۔جہاں تک وزیر اعلیٰ کی پسند کا معاملہ ہے تو ریاست کے 33 فیصد ووٹروں نے سدارامیا کو ہی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پسند کیا ہے جبکہ بی جے پی کے ایڈی یورپا کو 26 فیصد ۔ نصف سے زائد ووٹرمانتے ہیں کہ سدارامیا نے ریاست میں سوکھے کی پریشانیوں کو اچھے طریقہ سے نمٹایا ہے ۔مذکورہ پول کے مطابق 73 فیصد ووٹروں نے اسکولوں میں کنڑا زبان کو لازم بنانے کی حمایت کی ہے ۔ اسی طرح کرناٹک کے علاحدہ جھنڈکی حمایت میں 59 فیصد افراد نے ووٹ دیا ہے ۔کرناٹک کے ووٹروں کی ایک اچھی خاصی تعداد یہ مانتی ہے کہ کاویری آبی تنازع پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے کانگریس کو اچھا خاصہ فائدہ ہوگا۔

x

Check Also

میں نے اپنے مذہب کی حفاظت کے لئے گوری لنکیش کا قتل کیا: پرشورام واگھرے

خاتون صحافی گوری لنکیش قتل معاملہ میں خصوصی انکشاف ٹیم (آیس آئی ...