بنیادی صفحہ / صوبائی / بینگلورو عیدگاہ میدان تنازعہ: ہندو کارکنان نے کیا بند کا اعلان

بینگلورو عیدگاہ میدان تنازعہ: ہندو کارکنان نے کیا بند کا اعلان

Print Friendly, PDF & Email

بنگلورو:12 جولائی،2022 (ایجنسی) کرناٹک کے عیدگاہ میدان میں ہندو تہواروں کو منانے کی اجازت کے مطالبہ کو لے کر ہندو تنظیموں نے منگل کے روز بنگلورو میں بند کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر عید گاہ میدان کے ارد گرد حالات کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق متعدد دکانیں اور کاروباری ادارے بند رکھے گئے ہیں۔

حالات کے پیش نظر محلے کے اسکولوں اور کالجوں کی چھٹی کر دی گئی ہے۔ محکمہ پولیس میں 4 اے سی پی، 12 پولیس انسپکٹر، 30 پی ایس آئی، 60 اے ایس آئی، 350 پولیس کانسٹیبل اور کرناٹک ریاست ریزرو پولیس (کے ایس آر پی) کی 4 پلاٹون اور سٹی ارمڈ ریزرو (سی اے آر) کی تین پلاٹون تعینات کی گئی ہیں۔

ہندو جن گاگرتی سمیتی، وشو سناتن پریشد، سری رام سینا، بجرنگ دل، ہندو جاگرن سمیتی سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے بند کو حمایت دی ہے۔ ریاست کے وزیر داخلہ اراگا گیانندر نے کہا ہے کہ انہوں نے بند کے دوران علاقہ میں نظم و نسق کی صورت حال برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ بند کے دوران اضافی پولیس فورسز تعینات کی جائے گی۔

خیال رہے کہ ایک طرف ہندو تنظیمیں بضد ہیں کہ عیدگاہ میدان کو ’کھیل کا میدان‘ قرار دیا جائے اور ہندو تنظیموں کو تقریبات منعقد کرنے کی اجازت ملے، دوسری طرف کرناٹک وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے اراضی پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔ ہندو تنظیمیں اس بات سے ناراض ہیں کہ پہلے بروہت بنگلورو مہانگر پالیکا (بی بی ایم پی) نے عیدگاہ میدان پر اپنا دعویٰ کیا تھا، اور پھر بعد میں اپنے دعویٰ سے پیچھے ہٹ گئی۔

واضح رہے کہ جون ماہ میں کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں عیدگاہ میدان پر مختلف پروگراموں کی اجازت کے لیے ہندو تنظیموں کی درخواست نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ کرناٹک وقف بورڈ کے مطابق عیدگاہ میدان کی اراضی وقف ہے اور کسی اور تنظیم کو پروگراموں کے انعقاد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ بلدیہ حکام نے اس معاملہ میں قانونی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہندو تنظیمیں چامراج پیٹ میں واقع عیدگاہ میدان پر یوم آزادی اور آزادی کا امرت مہوتسو منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ میدان میونسپل کارپوریشن کی اراضی ہے۔ بلدیہ عہدیداروں نے بھی شروع میں کہا تھا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق اراضی کارپوریشن کے تحت ہے جو پلے گراؤنڈ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ حالانکہ کرناٹک وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے اراضی پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔ 9221.7 مربع میٹر اراضی پر تنازعہ چل رہا ہے۔ وقف بورڈ نے بلدیہ حکام کو سپریم کورٹ کے احکامات اور دیگر دستاویزات حوالے کیے جن کا قانونی ماہرین کے ذریعہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

کرناٹک وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ اگر عیدگاہ کی وقف اراضی پر دیگر مذاہب کے پروگراموں کی اجازت دی گئی تو عیدگاہ کا تقدس پامال ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ ہندو تنظیموں کے ذریعہ عیدگاہ میدان میں کسی بھی تقریب کی اجازت دینے کے حق میں نہیں۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ کرناٹک میں ہندو تنظیموں نے کئی مساجد پر اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ وہ یا تو ان مساجد پر قبضہ چاہتے ہیں، یا پھر ان کو منہدم کر مندر تعمیر کے خواہاں ہیں۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*