بنیادی صفحہ / صوبائی / ضمنی انتخابات : جے ڈی ایس کو ترجیح دینے پر کانگریس لیڈر ناراض بلاری حلقہ کے امیدوار کے انتخاب پر بھی اکثر لیڈر خوش نہیں ، اپنے اپنے فائدہ کی سیاست کرنے کا کانگریس لیڈروں پر الزام ب

ضمنی انتخابات : جے ڈی ایس کو ترجیح دینے پر کانگریس لیڈر ناراض بلاری حلقہ کے امیدوار کے انتخاب پر بھی اکثر لیڈر خوش نہیں ، اپنے اپنے فائدہ کی سیاست کرنے کا کانگریس لیڈروں پر الزام ب

Print Friendly, PDF & Email

بنگلورو۔19؍اکتوبر(سالار نیوز)آئندہ 30نومبر کو ریاست کرناٹک میں لوک سبھا کی تین اور اسمبلی کی دوسیٹوں کے لئے ہونے والے ضمنی انتخابات میں جہاں جے ڈی ایس کو فوقیت ملی ہے وہیں کانگریس حلقوں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے۔ جے ڈی ایس کو دو لوک سبھا حلقے چھوڑ دےئے جانے سے کئی کانگریس لیڈر ناراض ہیں ۔ کہا جارہاہے کہ کانگریس ایک بڑی قومی پارٹی ہونے کے ساتھ ہی ریاستی اسمبلی اور کونسل میں بھی اس کی اکثریت ہے ۔ اس کے باوجود جے ڈی ایس کو ہر معاملہ میں ترجیح دینا درست نہیں ۔ چند سینئر کانگریس لیڈرس نے سیٹوں کی تقسیم پر اپنی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ جے ڈی ایس کے ایچ ڈی کمار سوامی آج اگر وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہیں تو وہ کانگریس کی اعلیٰ ظرفی ہے۔ اکثر کانگریس لیڈروں اور عوامی کو بھی یہی توقع تھی کہ رام نگرم اسمبلی حلقہ اور منڈیا پارلیمانی حلقہ جے ڈی ایس کو چھوڑ کر بلاری اور شیموگہ پارلیمانی حلقوں میں پارٹی کے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے علاوہ جمکھنڈی اسمبلی حلقہ سے پارٹی امیدوار کو کھڑا کیاجائے گا۔ اس توقع کے بر خلاف شیموگہ پارلیمانی حلقہ جے ڈی ایس کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے ۔روز نامہ سالار کے 16اکتوبر کے شمارہ میں اس بات کا بھی اشارہ دیاگیا تھا کہ مخلوط حکومت میں ساجھیدار کانگریس اور جے ڈی ایس نے مجوزہ ضمنی انتخابات میں متحد ہوکر دونوں پارٹیوں کے امیدواروں کے حق میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کیا پارٹی ورکرس اس کیلئے راضی ہوں گے ؟ سیٹوں کی تقسیم پر اکثر کانگریس لیڈروں کی ناراضی سے ابھی سے یہ صاف نظر آرہا ہے کہ پارٹی ورکرس متحد نہیں ہوں گے ۔ برسوں سے ان کے دل ودماغ پر چھائی نوک جھونک اتنی آسانی سے دور نہیں ہوگی۔
بلاری امیدوار کا انتخاب:۔بلاری لوک سبھا حلقہ سے وی ایس اگرپا کو پارٹی ٹکٹ دےئے جانے کے فیصلہ سے بھی اکثر کانگریس لیڈر خوش نہیں ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ کانگریس میں اکثر سینئر لیڈر اپنے اپنے مطلب کی سیاست کرکے پارٹی کو نقصان پہنچارہے ہیں ۔ بلاری سے اگرپا کی بجائے کسی طاقتور مقامی لیڈر کو ٹکٹ دیاجاتا تو بہتر تھا ۔ کیونکہ بی جے پی امیدوار سری راملو کی بہن جے ۔ شانتا کے مد مقابل اگر پا کو کھرا کرکے شکست دینا آسان نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگرپا ماہر قانون ہونے کے ساتھ ہی ایک تجربہ کار کانگریس لیڈر ہیں ، ریاستی ایوان میں اب تک انکا داخلہ پچھلے دروازے سے ہواہے۔ کوئی بڑا چناؤلڑنے کا انہیں تجربہ بھی نہیں۔سیاسی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ رام نگرم اور منڈیا حلقوں میں پہلے ہی سے کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان سخت مقابلہ تھا ۔ پچھلے کئی انتخابات میں دنوں پارٹیوں کو درمیان کانٹے کے مقابلے دیکھے گئے ہیں ۔ اب یہ دونوں حلقے جے ڈی ایس کو چھوڑ دینے سے بھی ان حلقوں کے کانگریس ورکرس کو مایوسی ہوئی ہے۔
ڈی کے شیو کمار کی سیاست:۔ریاست میں بارسوخ اور تجربہ کار وزیر ڈی کے شیو کمار اس وقت ریاست میں واحد کانگریس وزیر ہیں جو دیوے گوڈا اہل خانہ سے بالکل قریب سمجھے جاتے ہیں۔شیو کمار نے اپنے فائدہ کیلئے رام نگرم میں کانگریس ورکرس کو یہ ہدایت دی ہے کہ وہ جے ڈی ایس کے حق میں کام کریں ۔ اتنے دنوں سے جے ڈی ایس کی مخالفت میں کام کرنے والے کانگریس ورکرس کو اب مجبوراً جے ڈی ایس امیدوار انیتا کمار سوامی کے حق میں انتخابی مہم چلانی پڑے گی ۔پچھلے کئی برسو ں سے جے ڈی ایس کی مخالفت میں کام کرنیوالے اس حلقہ کے کانگریس ورکرس کیلئے مخالف پارٹی کی امیدوار کے حق میں مہم چلانا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ اس حلقہ کے اکثر رائے دہندگان نے بھی اپنے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بعد رام نگرم ضلع میں کانگریس کیلئے قدم جمانا بہت مشکل ہوگا۔

x

Check Also

بنگلورو میں صد سالہ امام احمد رضا خان کانفرنس کا انعقاد ، مختلف سنی تنظیموں کی نمائندہ شخصیات کی شرکت

بنگلورو میں صد سالہ امام احمد رضا خان کانفرنس منعقد ہوئی۔ دارالسلام ...