بنیادی صفحہ / صوبائی / یوتھ کانگریس انتخابات میں اقلیتی امید واروں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام

یوتھ کانگریس انتخابات میں اقلیتی امید واروں کو نظر انداز کئے جانے کا الزام

Print Friendly, PDF & Email

بنگلور،(بھٹکلیس نیوز) ریاست میں یوتھ کانگریس کی جاریہ میعاد کے اختتام پر نئے عہدیداران کے انتخاب کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔خصوصاً صدارتی عہدے کے لئے ہائی کمانڈ کی جابن سے منظور شدہ امید واروں کی حتمی فہرست جاری ہوجانے کے بعد کئی حلقوں سے اس بات پر ناراضگی اور مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس فہرست میں اقلیتی طبقات خصوصاً مسلمانوں کی نمائندگی میں قصداً نظر انداز کیا گیا ہے۔کل گذشتہ اپنی اشاعت میں مقامی انگریزی روزنامہ ڈکن کرانیکل نے بتایا تھا کہ ریاستی کانگریس کے کئی نوجوان قائدین بشمول ایم ایل سی اورموجودہ یوتھ کانگریس صدر رضوان ارشد کی جانب سے اپنے پسندیدہ امید واروں کو میدان میں اتارنے اور ان کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ انتخابات کے بجائے واحد نامزدگی کے طریقہ کار کو اختیار کرنے کی منصوبہ بندی اس وقت ناکام ہو گئی جب دیگر امید واروں نے اس کی مخالفت کی تھی۔اکثر امید واروں کا یہ کہنا تھا کہ واحد نامزدگی کو لاگو کرنے کی کوئی بھی کوشش جمہوری طریقہ کار پر انتخابات کے ذریعہ یوتھ کانگریس کو زیادہ فعال بنانے کے پارٹی کے نائب صدر راحل گاندھی کے خواب کو چکنا چور کر دیگی۔واضح رہے کہ دو دن قبل رضوان ارشد نے آئی ٹی اور بی آئی کے وزیر پریانک کھرگے اور کے پی سی سی کے کارگزار صدر دنیش گنڈو راؤ کے ساتھ مل کر ان تمام نوجوان امید واروں کی ایک میٹنگ طلب کی تھی جنہوں نے انتخابات کے لئے اپنی نامزدگیاں داخل کی تھیں۔اس اجلاس میں کھرگے اور گنڈو راؤ وغیرہ نے بار بار اس بات کو دہرایا کہ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ غیر ضروری انتخابی عمل سے دور رہیں، کماز کم بعض اہم عہدوں کے لئے تو یہی بات ہونا چاہئے۔اسی دوران رضوان ارشد نے درمیان میں کود کر کہا کہ ان کا نمائندہ صدر کے عہدے کے لئے انتخاب لڑ رہا ہے، لہٰذا جو دوسرے افراد اس عہدے کے خواہشمند ہیں انہیں چاہئے کہ اپنی نامزدگی واپس لے لیں یا پھر دوسرے عہدوں کے لئے انتخاب لڑیں، جیسے نائب صدر اور جنرل سکریٹری وغیرہ اور وہ وہاں ان لوگوں کا پورا ساتھ دیں گے۔یہ سن کر دوسرے امید وار جن میں سے بعض طاقتور سیاسی قائدین کے گھروں سے ہیں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ پارٹی کے نائب صدر کے خْواب کو توڑ رہے ہیں۔کل گذشتہ شام دیر گئے مرکز سے منتخبہ امیدواروں کی فہرست جاری کی گئی جس میں صدر کے عہدے کے لئے آٹھ امید واروں کو منظوری دی گئی ہے۔ان میں سے دو کا تعلق دیگر پسماندہ طبقات سے ہے اور ایک درج فہرست طبقہ سے جبکہ چار دیگر امید وار عمومی کیٹگری کے ہیں۔اس میں دو خواتین پہیں ایک مسلمان اور دوسری دیگر پسماندہ طبقات سے متعلق، حیرت کی بات یہ ہے کہ کسی مسلمان مرد کو اس میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے حالانکہ کہ اس سے قبل ریاستی یوتھ کانگریس کے انتخابات کے لئے جو ماڈیول یا رہنماء اصول جاری کئے گئے تھے اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ اگر کو خاتون امید وار صدر کے عہدے کے لئے انتخاب لڑتی ہے اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیتی ہے تو بھی وہ صرف نائب صدر کے عہدے کی مستحق ہونگی اور انہیں صدر نہیں بنایا جا سکتا۔اس وضاحت کے بعد ایک مسلمان خاتوں کو صدر کے عہدے کے لئے امید وار کے طور پر منظوری دینا ، کہا جا رہا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام ہے۔اس فہرست کے جاری ہونے کے بعد کئی یوتھ کانگریس کے کارکنان اور عہدے داران نے اپنی نامزدگیوں کو واپس لینے کی دھمکی دی ہے، وہ لوگ خصوصیت کے ساتھ اپنے ہر دلعزیز امید وار لیاقت اللہ خان ، جو صدارتی عہدے کے امید وار ہیں ان کا نام فہرست میں شامل نہ کئے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔کہا جا رہا ہے کہ لیاقت اللہ خان کو صدارتی عہدے کی امید واری دینے کے بجائے ان سے کہا گیا کہ وہ ریاستی یوتھ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے عہدے کو قبول کرلیںیا پھر انہیں انتخابات کے بعد قومی سطح پر کوئی عہدے تفویض کیا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ سروگنہ نگر اسمبلی حلقہ کے موجودہ یوتھ کانگریس صدر لیاقت اللہ خان نے حال ہی میں ریاست کے تمام اضلاع میں کانگریس پارٹی کی رکنیت کو بڑھانے کے سلسلہ میں بے انتہاء کوششیں کی ہیں اور بڑی تعداد میں بالخصوص مسلم اقلیتی نوجوانوں کو کانگریس میں شامل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔اس سال یوتھ کانگریس کی رکنیت مہم کے دوران جو لاکھوں نوجوان کانگریس میں شامل ہوئے ہیں ان میں سے ایک بڑی تعداد اسی نوجوان قائد کی کوششوں ہی کا نتیجہ رہا ہے۔مختلف طبقات کے ایک سے زائد امید واروں کے میدان میں ہونے کی وجہ سے ان طبقات کے ووٹوں کی تقسیم یقینی ہے جب کہ لیاقت اللہ خان چونکہ صدارت کی دوڑ میں واحد مسلم مرد امید وار ہو سکتے تھے اس لئے ان کے جیتنے کی امیدیں قوی زیادہ قوی تھیں، اس کے علاوہ پارٹی کے کئی اعلیٰ قائدین کی بھی بھر پور حمایت انہیں حاصل ہے۔بعض امید واروں اور کانگریس کے کارکنان نے الزام لگایا ہے کہ یہ موجودہ یوتھ کانگریس صدر رضوان ارشد ہی کا منصوبہ رہا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کہ ریاست میں مقابلہ میں کوئی دوسرا مضبوط مسلم نوجوان قائد ابھر کر سامنے آئے۔

x

Check Also

بنگلورو: ایندھن قیمتوں میں اضافہ سے پریشان ڈرائیور کی خود سوزی

بنگلورو: ایندھن قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عام آدمی کس قدر ...