بنیادی صفحہ / صوبائی / ہندوستان میں روزانہ تمباکو نوشی سے 2 ہزار اموات

ہندوستان میں روزانہ تمباکو نوشی سے 2 ہزار اموات

Print Friendly, PDF & Email

ہندوستان میں روزانہ تمباکو نوشی سے 2 ہزار اموات
جگتیال /کریم نگر:20اگست :ایم آئی کی جانب سے آج یہاں پریس کانفرینس منعقد کی گئی جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے امریکہ کے نامور ڈاکٹر مقبول صاحب نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیاں میں اگر کوئی مرض سب سے زیادہ پھیل رہا ہے تو صرف کینسر ہے ۔ جس کاروزانہ کئی افراد شکار ہو رہے ہیں ۔موصود ڈاکٹر مقبول نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں اس موذی مرض سے کوئی 5 لاکھ افراد فوت ہوچکے ہیں۔ کینسر کی روک تھام کے لئے آدمی کو بہت سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار امریکہ کے نامور ڈاکٹر مقبول حق نے آج اے ایم آئی کے زیراہتمام منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس سال دنیا میں ایک اندازہ کے مطابق کینسر سے متاثرہ 10 لاکھ افراد کا علاج کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ سال 2030ء میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں دو گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس مرض میں مبتلا افراد بہت ساری پریشانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور انھیں خاندانی و معاشی طور پر بھی سخت پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ مالی طور پر کمزور شخص اس مرض کے علاج کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے ملک میں دنیا میں سب سے زیادہ کینسر کے مریض پائے جاتے ہیں جبکہ 35 تا 65 برس کے افراد زیادہ تر اس مرض میں مبتلا ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ ملک میں متاثرہ شخص اس مرض کے آخری اسٹیج پر علاج کیلئے دواخانہ سے رجوع ہوتا ہے جبکہ ابتدائی مرحلہ میں ہی علاج پر توجہ دینی ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بہت سارے مریض مرض کا پتہ چلتے ہی ہمت ہار جاتے ہیں اور موت کو ہی اس کا علاج سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹر کے صلاح و مشورہ کے بعد بہت ساری احتیاطی تدابیر کے ذریعہ اس مرض سے 80 فیصد چھٹکارہ ممکن ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے بتایا کہ امریکہ میں 80 فیصد چھاتی کے کینسر میں مبتلا مریضوں نے احتیاطی تدابیر کے بعد اس مرض سے چھٹکارہ حاصل کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں 35 فیصد افراد تمباکو نوشی کے ذریعہ اس موذی مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ علاوہ ازیں تمباکو نوشی کی کثرت سے ملک میں یومیہ 2 ہزار افراد مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر مرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا میں منہ کے کینسر سے مرنے والوں کی 86 فیصد تعداد کا تعلق ہندوستان سے ہے اور بقیہ 20 افراد پیٹ کے مختلف کینسر سے فوت ہوتے ہیں۔ ملک میں زیادہ تر خواتین چھاتی کے کینسر سے متاثر ہوتی ہیں اور ہر سال میں اس میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ پیٹ کے کینسر سے متاثرہ مریض ملک میں بہت زیادہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمباکو‘ گٹکھا‘ شراب اور ناقص غذا کی روک تھام کے ذریعہ ہم بہت حد تک اس مرض پر قابو پاسکتے ہیں۔ رضاکارانہ و دیگر فلاحی تنظیموں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اسکولی سطح پر طلبہ کو پان‘ تمباکو‘ گٹکھا اور شراب کے استعمال سے ہونے والے نقصانات سے واقف کروائیں۔ اس موقع پر صدر اے آئی ایم ڈاکٹر سنجے کمار کے علاوہ ڈاکٹر پربھاکر اور دوسرے موجود تھے۔

 

x

Check Also

منگلورو: ’’مسلمانوں کے بغیر ہندو راشٹر ‘ کی وکالت کر رہا تھا شخص، طلبہ نے کر دی پٹائی

منگلورو۔ کرناٹک میں منگلورو کے ایک مال میں ’ ہندو راشٹر‘ کی ...