بنیادی صفحہ / صوبائی / ملک میں نوٹ بندی ، اترپردیش میں گوشت بندی اور آنٹی رومیو اسکواڈ

ملک میں نوٹ بندی ، اترپردیش میں گوشت بندی اور آنٹی رومیو اسکواڈ

Print Friendly, PDF & Email

قوم کا عدم اتحاد اور مذہبی اصلوں پر عمل نہ کرنے کا شاخسانہ ، جے یم عروج کا بیان
میسور (بھٹکلیس نیوز) یہاں میسور میں ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے میسور ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے سابق چیرمین جے یم عروج احمد نے ملک کے موجودہ بدلتے ہوئے حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اگر قوم میں اتحاد ہوتا ، آپسی مسئلک و منصوبوں کا اختلافات نہ ہوتا اور مذہبی اصولوں اور آں حضور ﷺ کے بتائے ہوئے تعلیمات پر عمل کیا جاتا تو آج مسلمان بے یار و مددگار اور مایوس نہ رہتا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے عوا سے جھوٹے لالچی وعدے کرکے ملک کے وزیر اعظم کے باوقار عہدے پر جلوہ افروز ہونے کے ساتھ اپنے فرد واحد کے آر یس یس کے منصوبہ بندی فیصلہ سے نوٹ بندی کرکے ملک کے دولت مندوں کو اور دولت مند بناتے ہوئے درمیانی اور غریب طبقوں کو اپنی ہی رقم کے لئے محتاج بناکر بینکوں کی لائن میں بھکاریوں کی طرح کھڑے ہوکر بھوک و افلاس کا سامنا کروادیا۔ اور اترپردیش میں کامیابی حاصل کرکے سادھو دنت کے پیروکار وزیر اعلی ٰ بناکر غیر مسلم برادری کو ہندو راشٹر کے قیام کا لالچ دے دیا ہے، مودی کے ماتحت یوگی اقتدار پر برابر جمان ہونے کے ساتھ یو پی میں مذبح خانے بند کرواکر ہزاروں غریب پیشہ اورو متعلقہ مزدوروں کو اور گوشت کے تاجروں کو بے روزگار و کنگال کرکے خواتین کے تحفظ کے نام پر آنٹی رومیو اسکواڈکا انعقاد کرکے ہندو یوا واہنی کے جوانوں کو راہ چلتے جوڑوں کے ساتھ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بد تمیزی کے ساتھ چھیر خوانی کرواکر خوف اوردہشت کا ماحول اجاگر کردیا گیا ہے۔ مگر مسلم معاشرے میں اسکا کوئی تاثر دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ صرف مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ دار علمائے کرام ، جماعت اسلامی ہند کے ذمہ دارحضرات و آئمہ کرام ہی قوم کیمظلوموں کی حمایت میں اپنی بے مثال کاوشوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج کی صورت حال مسلمانوں کے لئے نئی نہیں ہے۔ آزادی سے اب تک انکے صبر کا امتحان لیا جارہا ہے۔ مسلمان اس رسول اکرم ﷺ کے پیروکار ہیں جس نے ظلم برداشت کر کرکے پھتروں کی مار و یلغار کھاکر بھی دشمنون کو دعائیں دین ہیں۔ ہمیں اس قول و فعل سے غیروں سے ہمدردی و خلوص کا برتاؤ کرکے اسلام کے باوقار کرداد کا اظہار کرنا چاہئے۔ اس عمل سے مسلمانون کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔ صرف اسلئے کہ تمام مسلمان تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔ دوسری وجوہات یہی ہوسکتی ہیں کہ مسلمان اپنے دین حقیقی سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ مذہبی اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ جب یہ دونوں باتیں مسلمانوں میں آجائینگی یہ دنیا والے مسلمانوں کے حقیقی دوست بن کر تحفظ دینے پر مجبور ہوجائینگے۔ معزز علماء کرام ہی اتحاد و اتفاق اور بنی لکریم ﷺ کے فرمانوں پر عمل پیرائی کے لئے اپنے خطابوں میں تلقین کے ذریعہ مسلمانون کے ایمان پرور بناسکتے ہیں۔ نوجوانوں میں صبر و تحمل اور ایمان کی روشنی اور عملی شعور کو اجاگر کے اتحاد اور اتفاق کی اسلامی آہنی دیوار کھڑے کرسکتے ہیں۔ ورنہ موجودہ مسجد- مندر ، طلاق ثلاثہ وغیرہ کے مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*