بنیادی صفحہ / صوبائی / دار العلوم صدیقیہ میں جمعیتہ علماء شاخ کرناٹک کا سالانہ جنرل باڈی اجلاس

دار العلوم صدیقیہ میں جمعیتہ علماء شاخ کرناٹک کا سالانہ جنرل باڈی اجلاس

Print Friendly, PDF & Email

میسور (بھٹکلیس نیوز)مورخہ 30 اپریل بروز اتوار صبح 9 بجے تا شام 5.00 بجے جمعیتہ علماء شاخ کرناٹک کا سالانہ جنرل باڈی منعقد کیا گیا ہے۔ جس میں 400 سے زائد علمائے کرام شرکت کرینگے ۔ موجودہ دیش کے سیاسی حالات اورآئندہ سال کے پروگرام ترتیب دئے جائینگے۔جمعیتہ علماء کے صدر حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب اس اہم سالانہ جنرل باڈی اجلاس میں شرکت کرینگے۔اس اہم اجلاس کو کامیابی اور منظم طریقہ سے منعقد کرنے کے لئے گزشتہ جمعہ بعد نماز عشاء ادیگری میں مسجد بلال کے قریب واقع یم کے فائر ماؤنٹ میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کا آغاز جناب مولانا قاری اعجاز احمد کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ جمعیتہ علماء میسور کے جنرل سکریٹری مولانا حافظ ارشد احمد نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے تما م حاضرین کو اس مشاورتی اجلاس کے مقاصد کو تفصیل سے بیان کیا اور کہا ہمارے اس پیارے وطن میں موجود ہ حالات کافی نازک ہیں اور دیش ایک نازک دوور سے گزر رہا ہے۔ اس ہم سب کو سوچ سمجھ کر ہمارے قدموں کا آگے بڑھانا ہے اور سب سے بڑھ کا ہمارا اتحاد ہی ہماری طاقت ہے ۔ لیکن ان تمام حالات کے باوجود آج بھی ہماری قوم انتشار کا شکار ہے۔ اور ہمکو ہف گوشہ میں کام کرنا ہے۔ کام اتنا ہے کہ اس کو مکمل کرنے کے لئے ہماری عمریں بھی کم پڑ جائینگی۔ کلمہ کی بنیاد پر ہی ہماری یہ جماعت جمعیتہ علماء قائم کی گئی ۔ اور بلاتفریق مزہب و ملت ہم تمام کی مدد کرتے ہیں۔ مولانا حافظ ارشد صاحب نے بتایا کہ مورخہ 30 اپریل بروز اتوا ر میسور کے دارالعلوم صدیقیہ میں صبح ۹ بجے تا شام 5 بجے سالانہ جنرل باڈی اجلاس منعقد کیا گیا اور اسی دن بعد نماز مغرب سینٹ فلومناس کالج کے میدان میں اجلاس عام منعقد کیا گیا ۔ جس سے حضرت مولانا ارشدمدنی صاحب ،صد، جمعیتہ علماء اوردوسرے اکابر علماء خطاب کرینگے۔ مولانا ارشد صاحب نے بتایا کہ نفرت کی سیاست کو ختم کرنا وقت کی اہم ترین ضروت ہے۔ جناب عبد العزیز چاند صاحب، سکریٹری، داالعلوم صدیقیہ، نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ،کہا کہ اللہ نے ہم مسلمانوں کو جو شرف سے نواز ہ ہے وہ صد ر امریکہ کو بھی حاصل نہیں ہے۔اس دنیا میں ہم پر جو آفت آئیگی وہ ہمارے اعمال کی وجہ سے آئیگی ، ہم ہمارے پرانے اسباق کو بھول گئے اور انہیں دوبارہ یاد کرنے کی بہت ضروت ہے۔ اوریہی قدیم اسباق ہمارے اکابر علماء ہمیں یاد دلائینگے۔ اورایسے علماء س ہمیں استفادہ کرنا چاہئے۔ آج سے چند سال پہلے دارالعلوم صدیقیہ میں قومی سطح پر فقہی سمینار منعقد کیا گیا تھا۔ جو بے حد کامیاب ہوا تھا۔ اور آج بھی اس سمینار کے چرچے سارے دیش میں کئے جاتے ہیں۔ اور وہ سمینار ایک تاریخی سمینار وں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جناب عبد العزیز چاند صاحب نے اس موقع پر کہا کہ حالات کافی نازک ہیں۔ اور ہمیں سوچھ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے، کیونکہ ایک مسلمان کبھی بھی نا امید نہیں ہوتا اور جو ناامید ہوتا وہ کبھی بھی مسلمان نہیں ہوتا۔ حضرت مولانا احمد خان رشادی، حضرت مولانا شبیر احمد صاحب رشادی ، حضرت مولانا محمود الحسن صاحب اور جناب یم کے مکرم اللہ صاحب ، کارپوریٹر کے سی شوکت پاشاہ، انور پاشاہ عرف انوبھئی، عبدلقادر عرف شاہد، محمد ظہر الحق اس موقع پر مووجود تھے۔59

x

Check Also

’ہٹلر کے نازیوں نے جو جرمنی میں کیا وہی یہاں کیا جا رہا ہے‘ کماراسوامی کا آر ایس ایس پر حملہ

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی نے پیر کے روز ...