بنیادی صفحہ / ٹیکنولوجی اور سائنس / امیزن، فلپکارٹ جیسی کمپنیوں کو لکھنا پڑ سکتا ہے سامان بنانے والے ملک کا نام

امیزن، فلپکارٹ جیسی کمپنیوں کو لکھنا پڑ سکتا ہے سامان بنانے والے ملک کا نام

Print Friendly, PDF & Email

ہندوستانی سامانوں اور مینوفیکچررس کی طرف لوگوں کے بڑھ رہے رجحان کے درمیان حکومت ای-کامرس پلیٹ فارم پر فروخت ہو رہے پروڈکٹس کے لیے مینوفیکچرر ملک کا نام لکھنا لازمی کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ صنعت اور داخلی تجارت سے جڑے محکمہ یعنی ڈی پی آئی آئی ٹی نے بدھ کو اس سلسلے میں ای-کامرس پلیٹ فارم کے نظریات جاننے کے لیے ان کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی جس میں امیزن اور فلپکارٹ کے نمائندہ بھی شامل تھے۔

ڈی پی آئی آئی ٹی کے سکریٹری گرو پرساد موہپاترا نے کہا کہ یہ معاملہ وزارت کے زیر غور ہے کیونکہ یہ ‘میک ان انڈیا’ ویزن کے موافق ہے اور صارفین کو زیادہ متبادل دیتا ہے یہ جاننے کا کہ وہ پروڈکٹ کہاں سے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال کوئی ایڈوائزری یا ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے اور معاملے پر صرف نمائندوں کے ساتھ تبادلہ خیال ہوا ہے، مناسب صلاح و مشورے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔

 اس سلسلے میں متعلقہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ای-پورٹلس زیادہ تر معاملوں میں حقیقی فروخت کنندہ نہیں ہوتے ہیں اور وینڈرس پروڈکٹ کو فروخت کرتے ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بدھ کی میٹنگ کے دوران اس بات پر غور ہوا کہ وینڈرس کی اتنی بڑی تعداد کے ساتھ مجوزہ نظریہ کو کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔

 کہا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اس لیے بہت زیادہ معنی رکھتا ہے کیونکہ حکومت ہندوستانی سامانوں کو زیادہ فروغ دے رہی ہے اور اس نے ایک ‘آتم نربھر بھارت’ یعنی خودکفیل ہندوستان کا عزم ظاہر کیا ہے۔ چین کے ساتھ سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستانی پروڈکٹ کو اہمیت دینے کا مطالبہ بھی زور پکڑنے لگا ہے۔

 قابل غور ہے کہ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چند دنوں پہلے ہی مرکزی حکومت نے سرکاری ای-مارکیٹ پلیس پر سبھی نئے پروڈکٹس کے رجسٹریشن کے وقت اس کو بنانے والے ملک کا نام درج کرنا فروخت کنندگان کے لیے لازمی کر دیا۔

x

Check Also

نجی خلائی کمپنی کے راکٹ اور کیپسول کے ذریعے خلانورد مدار میں روانہ

کیپ کیناورل: تین امریکی اور ایک جاپانی خلانورد پہلی مرتبہ کسی نجی ...