بنیادی صفحہ / کھیل / کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے طلائی تمغہ جیتا تو نیرج چوپڑا نے کہا ’آل دی بیسٹ‘

کامن ویلتھ گیمز: ارشد ندیم نے طلائی تمغہ جیتا تو نیرج چوپڑا نے کہا ’آل دی بیسٹ‘

Print Friendly, PDF & Email

جیولن تھرو کے دو بہترین کھلاڑی نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم آپس میں بہترین دوست بھی ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑی نیرج چوپڑا اور پاکستانی کھلاڑی ارشد ندیم ایک دوسرے کو ’بھائی‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ کئی بار نیرج چوپڑا کی کامیابی پر ارشد ندیم نے مبارکباد کے پیغامات بھیجے، اور اب کامن ویلتھ گیمز 2022 میں ارشد ندیم نے طلائی تمغہ حاصل کر نیرج چوپڑا کو مبارکباد دینے کا موقع فراہم کیا۔

جی ہاں، پاکستانی جیولن تھرو کھلاڑی ارشد ندیم نے بھالا پھینکنے کے مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کر لیا ہے۔ انھوں نے 90.18 میٹر دور بھالا پھینک کر نہ صرف طلائی تمغہ پر قبضہ کیا بلکہ نیرج چوپڑا کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔

ارشد ندیم نے اس کامیابی کے بعد اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے ’’اللہ کے کرم اور آپ سب کی دعاؤں سے 2022 کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر کے ساتھ طلائی تمغہ۔‘‘ ارشد کے اس پوسٹ پر نیرج چوپڑا نے بہترین رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ’’مبارکباد ارشد بھائی۔ طلائی تمغہ اور 90 میٹر کراس کر کے گیم ریکارڈ بنانے کے لیے۔ آگے کے ٹورنامنٹ کےلیے آل دی بیسٹ۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ چوٹ کی وجہ سے نیرج چوپڑا برمنگھم 2022 کامن ویلتھ گیمز میں حصہ نہیں لے سکے ہیں۔ عالمی اتھلیٹکس چمپئن شپ کے دوران نیرج چوپڑا زخمی ہو گئے تھے اور کامن ویلتھ گیمز 2022 شروع ہونے میں چند ہی دن باقی رہ گئے تھے۔ ایسے میں انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس بڑے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد نیرج چوپڑا کافی مایوس تھے اور انھوں نے اپنے شیدائیوں سے معافی بھی مانگی تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*