بنیادی صفحہ / کھیل / کرکٹ: پانڈیا-راہل پر 20-20 لاکھ روپے کا جرمانہ

کرکٹ: پانڈیا-راہل پر 20-20 لاکھ روپے کا جرمانہ

Print Friendly, PDF & Email

کرکٹر ہاردک پانڈیا اور لوکیش راہل کو ایک ٹی وی شو میں خواتین کے خلاف کئے گئے قابل اعتراض تبصرہ کے معاملے میں ہندستانی کرکٹ كٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے امبوڈسمین نے 20-20 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے، جس کی رقم سماجی کاموں میں خرچ کرنا هو گی۔

ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے امبوڈسمین جج ڈی کے جین نے ہفتہ کو دونوں کرکٹرز کو ٹی وی شو ‘کافی ود کرن’ پر خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کے معاملے میں سزا دی اور ان پر جرمانہ عائد کیا ۔ بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی اس ہدایات کو شائع کیا گیا ہے۔

جج ڈی کے جین نے اپنی ہدایات میں لکھا کہ دونوں کھلاڑیوں کے خلاف آگے کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ دونوں پہلے ہی اس تبصرہ کیلئے عارضی معطلی کا سامنا کر چکے ہیں اور انہوں نے اس کے لیے تحریری معافی بھی مانگی تھی۔ دونوں ہندوستانی کھلاڑی زیر التواء معاملے کی سماعت کے سبب پہلے ہی پانچ پانچ ون ڈے میچوں سے باہر ہیں لیکن انہیں 30 مئی سے برطانیہ میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ کپ کے لیے ہندستان کی 15 رکنی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پانڈیا اور راہل کو نیم فوجی دستوں کے 10-10 سپاہیوں کی بیواؤں کو ‘ہندستان کے بہادر’ اپلی کیشن کے ذریعے ایک ایک لاکھ روپے کی مدد دینی ہوگی جبکہ نابینا کرکٹ کی ترقی کے لیے بنائے گئے نابینا کرکٹ ایسوسی ایشن کو بھی 10-10 لاکھ روپے کی رقم عطیہ کرنا ہوگی۔

دونوں ہندوستانی کھلاڑیوں کو چار ہفتوں کے اندر اندر یہ رقم ادا کرنا پڑے گی ۔ عدالت عظمی کی طرف سے مقرر امبوڈسمین نے پانڈیا اور راہل کو اس معاملے کی سماعت کے لئے دو اپریل کو نوٹس بھیجا تھا اور 9 اور 10 اپریل کو ان کے سامنے پیش ہونے کے بھی ہدایات دی تھیں ۔ دونوں کھلاڑیوں نے جج دی کے جین کے سامنے ایک بار پھر اپنی معافی دہرائی تھی۔

اس دوران بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر راہل جوہری بھی موجود رہے جنہوں نے سي اواے کے خیال کو پیش کیا جس کے مطابق ان میچوں کی فیس کٹنے اور پانچ میچوں کی معطلی کافی بتایا گیا تھا۔ اگرچہ جج ڈی کے جین اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے دونوں پر 20-20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جسے سماجی کاموں میں خرچ کرنے کے لئے ہدایات دی گئی ہیں۔

جج نے راہل اور پانڈیا کے تمام تحریری اور زبانی ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد دیئے اپنے فیصلے میں کہاکہ دونوں کھلاڑیوں نے بی سی سی آئی کی ان کے خلاف کی گئی کارروائی کی مخالفت نہیں کی، ایسے میں ان کے خلاف آگے کوئی اور کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ جس ملک میں کرکٹروں کو مثالی تصور کیا جاتا ہے، وہاں کھلاڑیوں کو معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے پھر چاہے وہ میدان پر ہوں یا میدان کے باہر۔ ایسے میں ان دو کھلاڑیوں کے اس رویے کو بغیر نوٹس کے چھوڑا نہیں جا سکتا ہے۔ انہوں نے جو بھی بیان دیا اس سے یقینا جذبات مجروح ہوئے۔

غور طلب ہے کہ ہندستانی آل راؤنڈر اور سلامی بلے باز نے کافی ود کرن شو پر خواتین کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کئے تھے جس کے بعد ان کی ہر طررف سے تنقید ہوئی تھی۔ اس کے لیے منتظمین کی کمیٹی (سی او اے ) کے صدر ونود رائے نے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے ان پر عارضی پابندی لگا دی تھی، لیکن بی سی سی آئی میں امبوڈسمین نہیں ہونے کی صورت میں دونوں پر سے عارضی پابندی کو ہٹا لیا گیا تھا۔

یہ متنازعہ ایپی سوڈ جنوری کے پہلے ہفتے میں نشر ہوا تھا جس کے لئے دونوں کھلاڑیوں کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس کی وجہ سے دونوں کو آسٹریلیا -نیوزی لینڈ کے دورے سے درمیان میں ہی واپس لوٹنا پڑا تھا اور سي اواے نے ان پر عارضی پابندی لگا دی تھی۔
پانڈیا اور راہل نے اس کے لیے تحریری معافی مانگی تھی۔ سي اواے نے جج ڈی کے جین کے امبوڈسمین مقرر ہونے کے بعد انہیں اس معاملے کی سماعت سونپ دی تھی۔

x

Check Also

ہندوستان آئے گی پاکستان کی کرکٹ ٹیم ؟ سی او اے نے مرکزی حکومت سے مانگی اجازت !۔

کرکٹ ایڈمنسٹریٹرس کی کمیٹی نے اس سال ہونے والی ون ڈے سیریز ...