بنیادی صفحہ / قومی / یو اے پی اےقانون پر جواب کے لیے سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت کو نوٹس

یو اے پی اےقانون پر جواب کے لیے سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت کو نوٹس

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ترمیمی (یو اے پی اے) قانون 2019 کوچیلنج کرنے والی دو عرضیوں پر سماعت کے دوران مرکزی حکومت کو جمعہ کے روز نوٹس جاری کرکے تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرکےدونوں عرضیوں پر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر کی گئی دو عرضیوں میں کہا گیا ہے کہ یو اے پی اے قانون اظہارِخیال کی آزادی ، شہری وقار اور عدم اتفاق ظاہر کرنے کے خلاف ہے۔ یہ قانون مرکزی حکومت کو کسیب بھی شخص کو دہشت گرد قرار دینے اور اس کی جائداد ضبط کرنے کا حق دیتا ہے۔

عرضی گزاروں نے عدالت سے اس قانون کو غیرآئینی قرار دینے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

ایک عرضی گزار سجل اوستھی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ اس قانون میں ہونے والی حالیہ ترمیم کے بعد حکومت کو کسی بھی شخص کو دہشت گرد قرار دینے کا حق حاصل ہو گیا ہے جبکہ یو اے پی اے 1967 کے تحت محض تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا تھا۔

x

Check Also

فاروق عبداللہ کو حراست میں لینا شرمناک، ڈی ایم کے سربراہ اسٹالن نے فوراً رہا کئے جانے کا مطالبہ کیا

چنئی: دراوڑمنتركشگم (ڈی ایم کے) سربراہ ایم کےاسٹالن نے جموں و کشمیرکے ...