بنیادی صفحہ / قومی / پرگیہ ٹھاکرسمیت مالیگاوں دھماکےکے تمام ملزمین ہفتےمیں ایک بارپیش ہوں: عدالت کا حکم
علامتی تصویر

پرگیہ ٹھاکرسمیت مالیگاوں دھماکےکے تمام ملزمین ہفتےمیں ایک بارپیش ہوں: عدالت کا حکم

Print Friendly, PDF & Email

ممبئی کی اسپیشل این آئی اےعدالت نے2008 میں ہوئے مالیگاوں بلاسٹ معاملے کے سبھی ملزمین کوہفتے میں ایک بارعدالت میں پیش ہونےکا حکم دیا ہے۔ عدالت نے جمعہ کوپرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت اوردوسرے ملزمین کویہ حکم دیا۔ کورٹ نے ملزمین کےعدالت میں پیش نہ ہونے پرناراضگی بھی ظاہرکی ہے۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت 20 مئی کوہوگی۔

سال 2008 میں مالیگاوں بم بلاسٹ معاملے میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے 23 اپریل کوواضح کیا تھا کہ ملزم پرگیہ ٹھاکرکے خلاف مناسب ثبوت موجود نہیں ہیں، جن کی بنیاد پرانہیں الیکشن لڑنے سے روکا جاسکے۔ واضح رہےکہ پرگیہ ٹھاکرکوبی جے پی نے مدھیہ پردیش کی بھوپال سیٹ سےکانگریس کےسینئرلیڈردگ وجے سنگھ کے خلاف میدان میں اتارا ہے۔

 مالیگاوں، مہاراشٹرکےضلع ناسک کا گاوں ہے، اس کےبھیکو چوک پرنورجی مسجد کے پاس 29 ستمبر 2008 کو یہ بلاسٹ تب ہوا، جب لوگ نمازپڑھنےجارہےتھے۔ یہ بم ایک موٹرسائیکل میں رکھا تھا۔ دھماکےکے پیچھے شدت پسند ہندوتنظیم کا ہاتھ ہونےکی بات سامنےآئی تھی، جس کی ابتدائی جانچ مہاراشٹراے ٹی ایس نےکی تھی۔ دھماکوں میں سات لوگ مارے گئےتھے اورتقریباً 80 لوگ زخمی ہوئے تھے۔niaمالیگاوں بلاسٹ 2008 کےاہم ملزم کےطورپر4 اورکل 7 لوگوں کا نام سامنے آیا تھا۔ چاراہم ملزم تھے۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، سابق لیفٹیننٹ کرنل پروہت، ریٹائرڈ میجررمیش اپادھیائےاورسوامی دیا نند پانڈے۔ دھماکوں کی ابتدائی جانچ مہاراشٹراے ٹی ایس کی طرف سےکرنےکے بعد اس پریوپی پی اے کی دفعہ لگائی گئی تھی۔ پھریہ کیس این آئی اے کو سونپ دیا گیا تھا، جس کے بعد اس معاملے میں کرنل پروہت اورسادھوی ٹھاکرسمیت کل سات ملزمین پردہشت گردانہ سازش رچنے کا الزام طے ہوا تھا۔ اے ٹی ایس نے جانچ میں پایا کہ اس کےملزمین کے تار2006 مالیگاوں بلاسٹ سے بھی منسلک تھے۔

x

Check Also

سپریم کورٹ نے بابری مسجد معاملہ میں اترپردیش حکومت سے تفصیلات مانگیں

سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام معاملہ کی سماعت کرنے والی ذیلی ...