بنیادی صفحہ / قومی / سابق چیف جسٹس کا شہریت ترمیمی بل پرسوال، مذہب کی بنیاد پر بنا قانون آئین کے بنیادی اقدارکے خلاف

سابق چیف جسٹس کا شہریت ترمیمی بل پرسوال، مذہب کی بنیاد پر بنا قانون آئین کے بنیادی اقدارکے خلاف

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آرایم لوڈھا نے لوک سبھا میں منظورشہریت ترمیمی بل 2019 پرسوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پربنایا گیا کوئی بھی قانون آئین کی بنیادی اقدارکے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ لوک سبھا میں پیرکودیر رات تک ہوئی زبردست بحث کے بعد بل کومنظورکردیا گیا۔ بل کے حق میں 311، جبکہ اس کے خلاف محض 80 ووٹ ہی پڑے۔ مانا جارہا ہے کہ مودی حکومت اس بل کوراجیہ سبھا سے بھی بل منظورکرالے گی۔

فی الحال قانون کولےکرکچھ کہنا جلد بازی ہوگی

سابق چیف جسٹس لوڈھا نے کہا کہ اس قانون پرابھی بات کرنا یا کچھ بھی کہنا جلد بازی ہوگی۔ ابھی ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس قانون کا ڈھانچہ کیسا ہوگا۔ صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ مذہب کی بنیاد پرکسی طبقے کوبنائے جارہے کسی بھی قانون سے باہررکھنا آئین کے التزام کومطمئن نہیں کرپائے گا۔ دوسرے الفاظ میں کہا جائے توایسا قانون آئین کے بنیادی اقدارکے خلاف ہوگا۔ ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، بہت سے لوگ بل کوغیرآئینی بتا رہے ہیں۔ وہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بل مسلمانوں کے خلاف ہے۔

ششی تھرورنے بل کوبتایا تھا آئین پرحملہ

کانگریس کے سینئرلیڈرششی تھرورنے بھی کہا تھا کہ شہریت ترمیمی بل ملک کے آئین پر حملہ ہے۔ ہمیں سبھی کےلئے فری انڈیا کی تعمیر کرنی چاہئے۔ ہم ملک کو مذہب کی بنیاد پر نہیں تقسیم کرسکتے۔  انہوں نے بل کو لوک سبھا میں پیش کئے جانے سے پہلے بھی کہا تھا کہ مذہب کی بنیاد پرقومیت کوطے کرنا پاکستان کا طریقہ ہے۔ اس بل میں صرف 6 مذہب کے لوگوں کوہندوستان کی شہریت حاصل کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ باقی مذاہب کو بل میں باہرکردیا گیا ہے۔ یہ مذہب کی بنیاد پربھید بھاؤ ہے۔

x

Check Also

‘من کی بات’ میں وزیر اعظم مودی نے لاک ڈاﺅن کے لئے عوام سے مانگی معافی ، ساتھ ہی دی یہ صلاح

 وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) نے کوروناوائرس کے انفیکشن کو ...