بنیادی صفحہ / قومی / این آئی اے ترمیمی بل پر نوک جھونک: اویسی نے کہا۔ ڈرائیے مت، امت شاہ نے کہا۔ اگر ڈر ذہن میں ہے تو کیا کریں

این آئی اے ترمیمی بل پر نوک جھونک: اویسی نے کہا۔ ڈرائیے مت، امت شاہ نے کہا۔ اگر ڈر ذہن میں ہے تو کیا کریں

Print Friendly, PDF & Email

حکومت نے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے عہد کا اعلان کرتے ہوئے لوک سبھا میں پیر کو بتایا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے مجرم کو بخشا نہیں جائے گا، بھلے ہی وہ کسی بھی ذات، مذہب، فرقہ یا خطے کا کیوں نہ ہو۔ حکومت نے پاکستان جیسے ملک کے باز نہ آنے پر سرجیکل اسٹرائک اور بالاکوٹ کی طرح فضائی حملوں کے راستے بھی اپنانے کے عہد کا اعادہ کیا ۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے قومی جانچ ایجنسی ترمیمی بل 2019 پر بحث میں مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ بل کے قانون بننے کے بعد قانون کے غلط استعمال سے متعلق ارکان کے خدشات کو عبث قرار دیتے ہوئے ایوان کو یقین دلایا کہ مجوزہ قانون کا غلط استعمال ان کی حکومت قطعی نہیں ہونے دے گی۔

دریں اثنا، این آئی اے ترمیمی بل پر بحث کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ اور مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کے درمیان نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔ حالانکہ، ووٹنگ کے بعد پیر کو یہ بل لوک سبھا میں پاس ہو گیا۔ اس سے پہلے اویسی نے کہا کہ آپ وزیر داخلہ ہیں تو ڈرائیے مت۔ اس پر امت شاہ نے کہا کہ وہ ڈرا نہیں رہے ہیں۔ لیکن اگر ڈر ذہن میں ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

 این آئی اے ترمیمی بل 2019 پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بی جے پی کے ستیہ پال نے کہا کہ حیدرآباد میں ایک پولیس سربراہ کو ایک لیڈر نے ایک ملزم کے خلاف کارروائی کرنے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ وہ کارروائی آگے بڑھاتے ہیں تو ان کے لئے مشکل ہو جائے گی۔ اس پر ایم آئی ایم لیڈر اسدالدین اویسی اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ جس بات چیت کا ذکر کر رہے ہیں اور جن کی بات کر رہے ہیں وہ یہاں موجود نہیں ہیں۔ کیا بی جے پی رکن اس کے ثبوت ایوان کی میز پر رکھ سکتے ہیں؟

ایوان میں موجود وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ جب ڈی ایم کے کے رکن اے راجا بول رہے تھے تو اویسی نے کیوں نہیں ٹوکا؟ وہ بی جے پی کے رکن کو کیوں ٹوک رہے ہیں؟ الگ الگ معیار نہیں ہونا چاہئے۔

اس پر اویسی نے کہا کہ آپ وزیر داخلہ ہیں تو مجھے ڈرائیے مت، میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔ شاہ نے اویسی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو ڈرایا نہیں جا رہا ہے ۔ لیکن اگر ڈر ذہن میں ہے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

پوٹا کو ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے منسوخ کیا گیا

انسداد دہشت گردی قانون (پوٹا) کو منسوخ کرنے کے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے شاہ نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی اس وقت کی متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت نے ووٹ بینک کی خاطر پوٹا کو منسوخ کیا تھا۔ پوٹا ایسا قانون تھا جس سے دہشت گردوں کے دماغ میں خوف پیدا ہوتا تھا لیکن 2004 میں یوپی اے اقتدار میں آتے ہی یو پی اے حکومت نے اسے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں رد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

شاہ نے کہا کہ پوٹا کو ختم کرمناسب قدم نہیں تھا۔ مختلف تحقیقات اور استغاثہ ایجنسیوں سے منسلک افسران کا بھی خیال تھا کہ پوٹا کو منسوخ نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ پوٹا کو ختم کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ 2004 سے 2008 کے درمیان دہشت گردی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد خود یو پی اے حکومت کو ہی اے این آئی قائم کرنی پڑی ۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر پوٹا منسوخ نہیں کیا گیا ہوتا تو ممبئی کا بدترین دہشت گردانہ حملہ نہیں ہوتا ، جس میں دہشت گردوں نے کئی گھنٹوں تک ممبئی شہر کے مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اپوزیشن کے اراکین سے اپیل کی کہ کم از کم ایسے بلوں پر سیاست سے اوپر اٹھ کر اورایوان میں متحد ہوکر غور کریں تاکہ دہشت گردوں تک یہ پیغام جائے کہ ایسے معاملے میں پورا ملک ایک ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ایسے معاملے پر ہم ایک آواز میں نہیں بولیں گے تو دہشت گردوں کی جرات میں اضافہ ہو گا اور وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دیں گے۔

نیوز ایجنسی یو این آئی، اردو کے ان پٹ کے ساتھ

x

Check Also

کم نہیں ہورہیں پی چدمبرم کی مشکلات ، سی بی آئی نے پھر کی ضمانت کی عرضی کی مخالفت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبر کی ...