بنیادی صفحہ / قومی / اگرسب سے بڑی پارٹی کا حق توگوا، میگھالیہ میں کانگریس کیوں نہیں؟ غلام نبی آزاد کا تلخ سوال
Congress leader Ghulam Nabi Azad said his party would defeat the "communal and divisive forces" who were posing a threat to the country's peace and unity.

اگرسب سے بڑی پارٹی کا حق توگوا، میگھالیہ میں کانگریس کیوں نہیں؟ غلام نبی آزاد کا تلخ سوال

Print Friendly, PDF & Email

بنگلورو: کرناٹک میں سب سے بڑی جماعت کے سبب گورنر سے حکومت تشکیل کے لئے مدعو کئے جانے کے بی جے پی کے مطالبہ پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ سب سے بڑی پارٹی میں اصول تبدیل نہیں ہوسکتے۔

کرناٹک میں اکیلے سب سے بڑی پارٹی کا حق کیسے ہوگیا؟ انہوں نے سوال پوچھا کہ گوا، منی پور اور میگھالیہ میں ہم سب سے بڑی پارٹی تھے، تب ہمیں حکومت بنانے کا موقع کیوں نہیں ملا؟

کیا 5 سال جے ڈی ایس کا وزیراعلیٰ ہوگا کے سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم نے کوئی تفصیل ابھی طے نہیں کی ہے۔ ہم دونوں مل کر118-117ممبران اسمبلی ہیں۔ ہم مستحکم حکومت دیں گے۔

اگر گورنر نے بی جے پی کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کیا تو اس کا مطلب ہارس ٹریڈنگ ہوگی، پیسہ چلے گا، رشوت چلے گی اور ممبران اسمبلی کی توڑ پھوڑ ہوگی۔ مجھے بھروسہ ہے کہ گورنر آئین کے وقار کے مطابق کام کریں گے، ہارس ٹریڈنگ کو بڑھاوا نہیں دیں گے۔ جب ہمارے پاس 117 ممبران اسمبلی ہیں جبکہ ان کے پاس 104 تو کون مستحکم حکومت دے گا۔

حکومت کے پانچ سال چلنے کے سوال پر انہوں نے کہاکہ کمار سوامی ہمارے وزیراعلیٰ ہوں گے، آپ پانچ سال پر کیوں فکر مند ہیں؟ جے ڈی ایس کی قیادت میں ہماری حکومت بنے گی اور پانچ سال چلے گی۔ کوئی نصیحت وزیراعظم اور امت شاہ کو؟ وہ گجرات میں بھی 150 سیٹ لے رہے تھے، لیکن شاید ای وی ایم نے ان کی پوری مدد نہیں کی۔

جے ڈی ایس سے اتحاد کے سوال پر سینئر کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ صرف میں نے نہیں بلکہ اشوک گہلوت اور وینو گوپال نے بھی جے ڈی ایس سے اتحاد کرنے میں اہم رول نبھایا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس صدر راہل گاندھی سے بھی انہوں نے بیچ بیچ میں بات کی۔

غلام نبی نے کہاکہ کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے118-117ممبران اسمبلی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ گورنر صاحب آئین کا مطالعہ کرکے کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے ایک پارٹی کو دوسری پارٹی کو توڑنے کا موقع ملے۔

x

Check Also

واجپئی کی آخری رسوم میں شرکت کے لئے ہندستان پہنچے افغانستان سے حامد کر زئی اور بنگلہ دیش سے اے ایچ محمود علی

افغانستان کے سابق صدر حامد کر زئی نئی دہلی پہنچ چکے ہیں ...