بنیادی صفحہ / قومی / عدالت کی بندش نہ ہوتی تو شاہین باغ میں ہوتا… چندر شیکھر

عدالت کی بندش نہ ہوتی تو شاہین باغ میں ہوتا… چندر شیکھر

Print Friendly, PDF & Email

سہارنپور: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف باغیانہ رخ اختیار کرنے والے بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر نے کہا کہ آئین کے خلا ف بننے والے اس قانون کے سلسلے میں ان کی مخالفت جاری رہے گی۔ دہلی کی ایک عدالت کے حکم پر عمل درآمد کے سلسلے میں اپنے آبائی ضلع سہارنپور کے قصبہ چُھٹمَل پور واقع اپنے گھر پہنچے چندر شیکھر نے علاقے کے تھانہ فتح پور جا کر اپنی حاضری لگوائی۔ تھانہ انچارج امت شرما کے مطابق چندرشیکھر اپنے مخصوص انداز میں پُرامن اور ڈسپلنڈ نظر آئے اور قانونی خانہ پُری کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ لوٹ گئے۔

انہوں نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کی مخالفت میں جاری احتجاجی تحریکوں میں خواہ ، وہ زیادہ سرگرمی نہ دکھاپائیں لیکن خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے۔ اگر عدالت کی ان پر بندشیں نہ ہوتیں تو وہ دہلی کے شاہین باغ میں جاری تحریک میں شریک ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ بھیم آرمی متاثرین کو انصاف دلائے گی اور مکمل تعاون کرے گی۔ اتوار کو چندر شیکھر میرٹھ میں مبینہ طور پر پولیس کے مظالم کے شکار افراد کے درمیان پہنچے۔

غورطلب ہے کہ گذشتہ بدھ کے روز دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے چندرشیکھر کو مشروط ضمانت دی تھی۔ انھیں دہلی کی دریاگنج پولیس نے جامع مسجد علاقے میں سی اے اے کے خلاف عوام کو مشتعل کرنے کے الزامات کے سبب 21 دسمبر کو دریاگنج تھانے کی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ عدالت نے چندر شیکھر پر دہلی سے دور رہنے اور ان کے آبائی ضلع سہارنپور میں اپنے تھانہ حلقے میں ہر ہفتے حاضری درج کروانے کا حکم دیا تھا۔

x

Check Also

دہلی فسادات؛ مسلمانوں کے حق میں ریمارکس پر ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ

نئی دہلی:  دہلی میں مسلم کش فسادات کے بارے میں ایک مقدمے ...