بنیادی صفحہ / قومی / بابری مسجد انہدام کی 26 ویں برسی: ملی وسماجی تنظیموں کا احتجاج، گنہگاروں کوسزا دینے اوربابری مسجد کی دوبارہ تعمیرکا پرزورمطالبہ

بابری مسجد انہدام کی 26 ویں برسی: ملی وسماجی تنظیموں کا احتجاج، گنہگاروں کوسزا دینے اوربابری مسجد کی دوبارہ تعمیرکا پرزورمطالبہ

Print Friendly, PDF & Email

دارالحکومت دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پرآج بابری مسجد کے گنہگاروں کوسزا دینے اور بابری مسجد کی دوبارہ تعمیرکے لئے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے۔ اس موقع پربابری مسجد منہدم کئے جانے کی سازش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے منڈی ہاوس سے جنترمنترتک پرامن مارچ نکال کرجنترمنترپرجمع ہوئے۔

وہیں دوسری جانب یونائیٹیڈ ہندو فرنٹ کی جانب سے ‘وجے دیوس’ منایا گیا۔ واضح رہے کہ 6 دسمبر1992 کوبابری مسجد شہید کردی گئی تھی۔ اس طرح سے بابری مسجد انہدام کے 26 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس لئے مختلف ملی وسماجی تنظیموں کی جانب سے "یوم سیاہ” منانے کےلئے جنترمنترپراحتجاج کیا گیا۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے منڈی ہاوس سے جنترمنترتک مارچ کیا۔ اس کے علاوہ سی پی آئی، جماعت اسلامی ہند، پاپولرفرنٹ آف انڈیا، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، لوک راج سنگٹھن، جن سمان پارٹی، ویلفیئرپارٹی، مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا، وویمن اندیا موومنٹ وغیرہ نے احتجاجی مظاہرہ میں شرکت کی۔ اس موقع پربطورخاص برندا کرات، سیتارام یچوری، ڈی راجا، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، ڈاکٹرتسلیم رحمانی، نوید حامد، ایس راگھون، یاسمین فاروقی وغیرہ پیش پیش رہیں۔

مذکورہ لیڈران اورسماجی کارکنان نے حکومت کے خلاف محاذ کھولتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت ملک میں نفرت کوفروغ دینے کا کام کررہی ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے لئے طرح طرح کے ہتکھنڈے اپناکرہندو- مسلم کے درمیان نفرت پھیلانے کا کام کررہی ہے۔ تاہم اس ملک میں نفرت کی سیاست بہت زیادہ دنوں تک نہیں چلنے والی ہے بلکہ اس ملک کا آئین اورقانون ہے، اسی کے مطابق سب کوآگے بڑھنا چاہئے۔

بابری مسجد انہدام کے 26 سال گزرجانے کے بعد بھی تنازعہ حل نہیں ہوا ہے اورنہ ہی اس معاملے میں اب تک کسی کو سزا ملی ہے۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں کوئی بل لانے کی کوشش کرے گی یا پھرسپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظارکیا جائے گا۔ بہرحال اس پرحکومت کوئی فیصلہ کرے اورسپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ بھی آئے، لیکن ابھی تک 26 سال گزرنے کے بعد بھی مسلمانوں کا زخم تازہ ہے کیونکہ بابری مسجد شہید کرنے والوں کوسزا نہیں ملے گی اوربابری مسجد کو اب تک انصاف نہیں ملا ہے۔

 

x

Check Also

کسانوں کی خود کشی کے لئے مودی حکومت ذمہ دار: پروین توگڑیا

ہندوتوا لیڈرپروین توگڑیا نے ہفتہ کوملک میں کسانوں کی خودکشی کے لئے ...