بنیادی صفحہ / قومی / ہندوتو کارکنوں نے آگرہ میں پولیس پر حملہ کیا

ہندوتو کارکنوں نے آگرہ میں پولیس پر حملہ کیا

Print Friendly, PDF & Email

آگرہ۔ (بھٹکلیس نیوز)فتح پور سیکری میں دو گروپوں کے درمیان تنازعہ نے آگرہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں ہندوتو تنظیموں نے سنیچر کی رات کو ہنگامہ مچایا اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ کی اور گاڑیوں میں توڑفوڑ کی. فتح پوری سیکری سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبر اسمبلی چودھری ادے بھان سنگھ کی قیادت میں کارکن اپنی پارٹی ارکان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے، جن کے خلاف فتح پور سیکری میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے. ذرائع نے بتایا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر سینئر پولیس افسر فتح پور سیکری پہنچے اور صورتحال کو کنٹرول میں کرنے کی کوشش کی. ہندوتو دھڑوں نے ہفتہ کو تاج محل کا محاصرہ کرنے کی کوشش کی اور بھگوا سکارف پر پابندی ہٹانے کی مانگ کو لے کر 500 میٹر کے محدود علاقے میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی. اے آئی آئی حکام نے ان کی شکایات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی. یہاں تک کہ مرکزی ثقافتی وزارت نے ایک نوٹ بھی جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی رنگ کے کسی سکارف پر پابندی نہیں ہے.

x

Check Also

بی جے پی اور آر ایس ایس جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں: اشوک گہلوت

ترواننت پورم: راجستھان کے وزیر اعلیٰ اور سینئر کانگریس لیڈر اشوک گہلوت ...