بنیادی صفحہ / قومی / طلاق ثلاثہ قانون،آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد اب مودی حکومت اس بل کوپارلیمنٹ میں کریگی پیش

طلاق ثلاثہ قانون،آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد اب مودی حکومت اس بل کوپارلیمنٹ میں کریگی پیش

Print Friendly, PDF & Email

ملک میں بیک وقت دی جانے والی تین طلاق پر پابندی لگانے والے قانون کی منظوری اورجموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد اب مودی حکومت مذہب کی تبدیلی کے خلاف بل لانے کی تیاری کررہی ہے۔ مرکزی حکومت پارلیمنٹ آئندہ اجلاس میں اس بل کو ایوان میں پیش کرنے پرغورکررہی ہے۔ بی جے پی سے وابستہ کئی رہنماؤں کی جانب سے اس بل کو پیش کرنے کی مانگ کی جارہی ہے۔ مذہب تبدیل کرانے کی خبریں شمال مشرق ریاستوں، کیرل اوراتر پردیش سے اکثرآتی ہیں۔ جہاں غریب اورناخواندہ لوگوں کوڈرانے، دھوکہ دہی یا لالچ کے ذریعہ مذہب تبدیل کروانے کی معاملے سامنے آئے ہیں۔ مودی حکومت پارلیمنٹ اگلے اجلاس میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف بل کولوک سبھا اورراجیہ سبھا میں پیش کرسکتی ہے۔

وزیراعظم نریندرمودی کوروانہ کیاگیا مکتوب

موجودہ نائب صدرجمہوریہ وینکیانائیڈ نے ماضی میں وزیرپارلیمانی امورکی حثیثت خدمات انجام دینے کے دوران تمام سیاسی پارٹیوں سے مخالف تبدیلی مذہب بل کواتفاق رائے سے منظورکرانے کی اپیل کی تھی تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔ اب مودی حکومت اس بل کو دوبارہ پارلیمنٹ میں متعارف کروانے کی تیاری کررہی ہے۔ بی جے پی رہنما اور سپریم کورٹ کے سینئرایڈوکیٹ اشوینی اپادھیائے نے مذہب کی تبدیلی مخالف قانون کے لئے ایک طویل مہم چلائی ہے اور اس کے لئے انہوں نے وزیراعظم نریندرمودی کو ایک خط بھی لکھا ہے۔

اشوینی اپادھیائے کا کہناہے کہ ہندو پہلے ہی ملک کی بہت سی ریاستوں میں اقلیت بن چکے ہیں۔اس کے باوجود، مذہب تبدیل کرانے کا عمل بڑے پیمانے پر جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ لکشدویپ اور میزورم میں ہندو اب صرف 2.5فیصد اور ناگالینڈ میں 8.75فیصد ہیں۔ جبکہ میگھالیہ میں 11فیصد کشمیر میں 28فیصد اروناچل میں 29فصید اور منی پور میں 30فیصد ہندو آباد ہیں۔

اب شہروں میں تبدیل کرائے جارہے ہیں مذہب

اشوینی اپادھیائے نے کہا کہ1990 کی دہائی تک تبدیل کرنے والے ادارے گاؤں کے صرف غریب کسانوں ، مزدوروں، دلتوں،استحصالیوں اورپسماندہ افراد کوہی نشانہ بناتے تھے لیکن اس وقت شہروں میں بھی اپنا جال بچھا رکھا ہے۔ شمال مشرق کی ریاستوں میں تبدیل کرنے کے لئے کوئی ہندو باقی نہیں بچا ہے ، لہذا یہ ادارے اب اترپردیش ، بہار اور مدھیہ پردیش جیسی بڑی ریاستوں میں غریبوں کومذہب تبدیل کرنے کا لالچ دے رہے ہیں۔اشوینی اپادھیائے کا کہناہے کہ نےپچھلے 10 سال میں ، ہریانہ اور پنجاب جیسی ریاستوں میں کسانوں ، مزدوروں ، دلتوں ،پسماندہ افراد کونشانہ بنایاگیاہے۔

اشوینی اپادھیائے نے دعویٰ کیاہےکہ ملک کے دارالحکومت دہلی میں ایک بہت ہی منصوبہ بند انداز میں توہم پرستی سے بدلاؤ کا کھیل جاری ہے۔ یہودی لوگ توہم پرستی اورمعجزات کی مدد سے لوگوں کو اپنے شکاربنارہے ہیںاور قانون کی عدم موجودگی میں پولیس کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے۔ ہندو مذہب کے وید ، پورن ، گیتا ، رامائن اور دیگرمذہبی کتابوں میں کرما کو بنیاد کہاجاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 51 اے کے مطابق ، یہ تمام شہریوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے مذہبی روایت کے بارے میں سائنسی اندازمیں سوچیں اور ان کی ضرورت کے مطابق بہتری لائیں ، لیکن قانون کی عدم موجودگی میں توہم پرستی کو فروغ دیاجارہاہے۔

بعض ریاستوں میں مخالف تبدیلی مذہب بل اور توہم پرستی کے خلاف قوانین متعارف

اشوینی اپادھیائے نے کہا کہ بعض ریاستوں نے مذہب تبدیل کرنے اور توہم پرستی کے خلاف قوانین متعارف کروائے ہیں۔لیکن یہ قوانین بہت کمزور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی اور توہم پرستی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود آج تک کسی کو سزا نہیں دی گئی۔ اسی لیے میں حکومت سے گزارش کررہاہوں کہا کہ آئندہ پارلیمنٹ اجلاس میں مخالف تبدیلی مذہب بل پربحث کی جائے تاکہ توہم پرستی کے خلاف ایک موثر قانون بنایاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں وزارت داخلہ اور وزارت قانون کو ضروری ہدایات دی جانی چاہیے۔ اشوینی اپادھیائے کا کہناہے کہ اس وقت تک مذہب تبدیلی کے عمل کو نہیں روکا جاسکتا جب تک مذہب تبدیلی کرانے والے اور توہم پرستی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انکی جائیدادیں ضبط نہ کی جائے اور انہیں عمر قید کی سزا نہ دی جانی چاہیے۔

x

Check Also

مسلسل بارش سے مشرقی اترپردیش سمیت ریاست کے کئی اضلاع بری طرح متاثر

لکھنؤ: اتر پردیش میں مانسون کے دوبارہ فعال ہونے اور گزشتہ دو ...