بنیادی صفحہ / تازہ خبریں / سپریم کورٹ نےمرکزسے کہا۔۔کل تک الیکشن کمشنرارون گوئل کی تقرری کی فائلیں کریں پیش

سپریم کورٹ نےمرکزسے کہا۔۔کل تک الیکشن کمشنرارون گوئل کی تقرری کی فائلیں کریں پیش

Print Friendly, PDF & Email

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ جمعرات (24 نومبر) کو الیکشن کمشنر ارون گوئل کی تقرری سے متعلق فائل عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے یہ ہدایت چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنرز کی تقرری کو مزید شفاف بنانے کے مطالبے کی سماعت کے دوران دی ہے۔ ججوں نے کہا کہ حالیہ تقرری سے انتخاب کے جاری عمل کی بہتر بنانے میں مد د ملے گی ۔

19 نومبر کو سابق آئی اے ایس ارون گوئل کو الیکشن کمشنر مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ درخواست گزار کے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ آئینی بنچ نے 17 نومبر سے سماعت شروع کی تھی۔ بنچ کو درخواست پر بھی غور کرنا پڑا، جس میں فیصلہ آنے تک الیکشن کمیشن کی تقرریوں کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن پھر بھی حکومت نے نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کر دی ہے۔

‘فائل دکھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے’

جسٹس کے ایم جوزف کی سربراہی میں کیس کی سماعت کرنے والی 5 رکنی بنچ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئی تقرری کی فائل کو دیکھنا ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹرامانی نے اسے غیر ضروری قرار دیا لیکن ججوں نے کہا کہ اگر اس تقرری میں کوئی کمی نہیں ہے تو حکومت کو فائل دکھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

‘سی جے آئی، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈرالیکشن کمشنروں کا انتخاب کریں’

درخواست گزار انوپ بارنوال نے 2015 میں الیکشن کمیشن کی تقرری کو مزید شفاف بنانے کی درخواست دائر کی تھی۔ اس عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشنروں کے انتخاب کا کام سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، وزیر اعظم اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کو سونپا جائے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس وقت الیکشن کمشنرز کی تقرری حکومت کرتی ہے۔ اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

‘سی ای سی کو وزیر اعظم پر بھی کارروائی کرنی چاہیے’۔ سپریم کورٹ

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘چیف الیکشن کمشنر کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ اگر کل وزیر اعظم پر بھی کوئی غلطی کا الزام لگا تو وہ اپنی ذمہ داری پوری کر سکیں’۔ اس کا جواب دیتے ہوئے، مرکزی حکومت کے وکیل نے کہا، "صرف فرضی صورت حال کی بنیاد پر مرکزی کابینہ پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہیے۔

‘طاقت کی تقسیم کو ذہن میں رکھیں’: تشارمہتا

مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بھی ججوں کی توجہ مبذول کرائی کہ آئین میں اختیارات کی واضح علیحدگی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کسی عہدے پر تقرری کے عمل کو تبدیل کرنے کا حکم دیتی ہے تو یہ ایگزیکٹو اور مقننہ کے دائرہ اختیار میں مداخلت ہوگی۔ اس قسم کا قانون پارلیمنٹ بناتی ہے اور حکومت اسے نافذ کرتی ہے۔ اس دلیل کو اہم قرار دیتے ہوئے ججوں نے کہا کہ وہ اس پر توجہ دیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*