بنیادی صفحہ / تازہ خبریں / اسلاموفوبیا کا شکار افراد کے خلاف کی جائے سخت کار روائی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا حکومت سے مطالبہ

اسلاموفوبیا کا شکار افراد کے خلاف کی جائے سخت کار روائی، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا حکومت سے مطالبہ

Print Friendly, PDF & Email

الہ آباد: ملک میں اسلاموفوبیا اور توہین رسالت کے بڑھتے معاملات کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اب سخت موقف اختیار کر لیا ہے ۔ پرسنل لا بورڈ نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے توہین مذہب مخالف قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے کنوینر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے الہ آباد میں نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانپور میں منعقد ہونے والے مسلم پرسنل لا بورڈ کے دو روزہ اجلاس میں توہین مذہب کے واقعات پر نہایت سنجیدگی سے غور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام مخالف بڑھتے رجحان پر بورڈ کے اراکین نے اپنی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قاسم رسول الیاس کا کہنا ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کسی بھی مذہب یا مذہبی شخصیات کی توہین کا سخت مخالف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات پر روک لگانے کے لیے توہین مذہب مخالف قانون کا بنایا جانا نہایت ضروری ہو گیا ہے ۔ گذشتہ 21، نومبر کو کانپور کے جاجمؤ میں ہونے والے مجلس عاملہ کے دو روزہ اجلاس میں توہین رسالت اور مذہب مخالف واقعات کے خلاف متفقہ طور سے قرار داد منظور کی گئی۔
بورڈ کے اجلاس میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سماج میں اسلاموفوبیا کا زہر تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ خاص طور سے سوشل میڈیا پر اسلام مخالف مواد کا سیلاب سا آگیا ہے ۔ لیکن اس کے با وجود مقامی انتظامیہ یا مرکزی حکومت کی طرف سے شر پسندوں کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کی جا رہی ہے۔
مسلم پرسنل لابورڈ کے اجلاس میں تریپورہ میں ہونے والے مسلم مخالف تشدد کے خلاف بھی قرار داد منظور کی گئی ۔قرار داد میں تریپورہ میں مسلم اقلیت پر ہونے والے پرتشدد حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور حکومت سے ریاست میں مسلم اقلیت کے جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*