بنیادی صفحہ / تازہ خبریں / سرکاری اعزاز کے ساتھ مفتی محمد اشرف علی باقوی کو سپردخاک کردیاگیا

سرکاری اعزاز کے ساتھ مفتی محمد اشرف علی باقوی کو سپردخاک کردیاگیا

Print Friendly, PDF & Email

جناز ہ کی نماز سے قبل 21توپوں کی سلامی علماء کرام اور سیاسی قائدین کا اظہار تعزیت 
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) ممتاز عالم دین دارلعلوم سبیل الرشاد کے مہتمم ، امیر شریعت مفتی محمد اشرف علی باقوی کی آج سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین عمل میں آئی ۔غسل کے بعد جسد خاکی کو دارلعلوم سبیل الرشاد کے وسیع میدان میں لاکر رکھا گیا جہاں ہزاروں افراد نے حضرت کا آخری دیدار کیا۔ نماز جنازہ سے قبل 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ سرکاری اعزاز پیش کیا گیا ۔ سرکاری کاروائی مکمل ہونے کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ مفتی صاحب کے فرزند مولانااحمدمعاذ نے نماز پڑھائی اور سبیل الرشاد کے احاطہ میں طے شدہ جگہ پر تدفین عمل میں آئی۔ اس موقع پر کئی علماء سیاسی قائدین، عمائدین، بڑی تعداد میں شریک تھے۔ سابق مرکزی وزیر اور موجودہ رکن پارلیمان جناب کے رحمن خان ریاستی وزراء جناب روشن بیگ ، مسٹر کے جے جارج ، پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر پرمیشور ، مرکزی وزیر مسٹر سدانند گوڈا، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریڑی اور کرناٹک کے انچارج مسٹر وینو گوپال کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریڑی جناب عبید اللہ شریف ، جناب سی یم ابراہیم یم یل سی ، جناب ضمیر احمد خان یم یل اے ، جناب ین اے حارث یم یل اے ، جناب رضوان ارشد یم یل سی کے علاوہ کئی سیاسی قائدین شریک تھے اس موقع پر علماء اور قائدین نے تعزیتی کلمات بھی پیش کئے ۔ رکن پارلیمان جناب کے رحمن خان نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مفتی صاحب پوری ملت کے رہبر تھے۔ آپ کی شخصیت نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ملک میں مقبولیت کا مقام رکھتی تھی مفتی صاحب سکیولرزم کے علمبر دار تھے ۔ تمام طبقات میں مقبولیت رکھتے تھے آج حضرت ہمارے درمیان نہیں رہے اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریڑی ڈاکٹر منظور عالم نے حضرت مفتی صاحب کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت اتحاد کے علمبردار تھے ہمیشہ آپ کی یہ فکر ہوتی کہ ملت میں اتحاد کو کیسے قائم کیا جائے مسائل کو کیسے حل کیا جائے اور مسلمانوں کے وقار کو بحال رکھنے کیلئے کیا کیا جائے ۔ ڈاکٹر منظور احمد نے کہا آج ہمیں عزم کرنا چاہئے کہ حضرت کی فکر کو ہم کیسے آگے بڑھائیں حضرت نے جو اچھے کام چھوڑے ہیں اس کو پورا کریں اور ملت کے اندر انتشار پیدا ہونے نہ دیں ۔آپ نے بھی حضرت کے حق میں مغفرت کی دعا فرمائی ۔ اس موقع پر کرناٹک کے وزیر برائے حج اور شہری ترقیات جناب روشن بیگ نے کہاکہ ریاست کے کسی بھی علاقہ میں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ حضرت مفتی صاحب سے رجوع ہوکر ان کی رہنمائی حاصل کرتیتھے۔آج حضرت ہمارے درمیان نہیں ہیں انہوں نے بتایا کہ ہم جس طرح حضرت سے اور اس مدرسہ سے لگاؤ رکھتے تھے آئندہ بھی ہمارا یہ لگاؤ جاری رہے گا۔ اس موقع پر مفتی باقرارشد نے اپنے پیغام میں کہا کہ حضرت مفتی صاحب نے کو مشن تحریک چلائی تھی اس کو جاری رکھنا چاہئے ہمیں فخر ہے کہ حضرت ذاتی اور قومی دونوں زندگیوں میں کامیاب رہے مسجد عسکری کے خطیب وامام مولانا سید محمد ابراہیم نے اپنے پیغام میں کہا کہ حضرت مفتی صاحب تمام مسلکوں کا احترام کرتے اور ہمیشہ کہتے کہ مسلک کو مسئلہ نہ بنائیں ملت کے اندر اتحاد کی فکر رکھنے والی شخصیت ہمارے درمیان نہیں رہی یہ ہمارے لئے ایک بڑا خسارہ ہے ۔ مسجد قادریہ کے خطیب مولانا لطف اللہ نے کہا کہ حضرت ہمیشہ ملی مسائل سے فکر مند رہا کرتے تھے قوم کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے تھے آپ کی رحلت ایک خسارہ ہے جمعیت العلماء ہند کرناٹک کے صدر مفتی افتخار احمد قاسمی نے کہا کہ حضرت مفتی صاحب علمی ، سماجی اور ملی میدانوں میں مہارت رکھتے تھے ۔ آپ کی رحلت علمی دنیا کیلئے ایک خسارہ ہے جو طویل زمانہ تک یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر مسلم لیگ کے یم یل اے جناب عبدالباسط جامع مسجد کے خطیب وامام مولانا مقصود عمران ، مولانا رحیم الدین ، حیداآباد ، مولانا ایوب رحمانی نے بھی تعزیتی کلمات کہے ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی اور خواجہ بندہ نواز گلبرگہ کے سجادے مولانا خسرو صاحب کے تعزیتی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے ۔ حضرت مفتی صاحب کی رحلت جمعرات ک کی درمیانی رات کو ہوئی تھی حضرت کی رحلت کی خبر سن کر فوراً پہنچنے والوں میں روزنامہ پاسبان کے ایڈیٹر جناب عبیداللہ شریف اور ان کے ساتھی پیش پیش تھے اور حضرت کی تدفین تک کے انتظامات میں ان لو گوں نے حضرت کے خاندان والوں کا ہاتھ بٹا یا تھا اور آج بھی جناب عبید اللہ شریف پیش پیش رہے۔کل وزیر اعلیٰ مسٹر سدرامیا ، وزیر داخلہ مسٹر رام لنگا ریڈی، مسٹر دیوے گوڈا وغیرہ سبیل الرشاد پہنچ کر تعزیت ادا کی تھی پولیس کے سخت انتظامات تھے۔ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی دار لعلوم سبیل الرشاد کے احاطہ میں تمام کاروائیوں کا جائزہ لیتے رہے۔

x

Check Also

تصاویر: دانتوں کے علاج کا مفت کیمپ