بنیادی صفحہ / تازہ خبریں / ریاست میں کورونا کی تیسری لہر کی دستک؟ ریاست میں دوبارہ پابندیاں عائد ہونے کے قوی امکانات

ریاست میں کورونا کی تیسری لہر کی دستک؟ ریاست میں دوبارہ پابندیاں عائد ہونے کے قوی امکانات

Print Friendly, PDF & Email

بنگلورو۔ 26 اکتوبر (ذرائع ) کورونا وائرس کی دوسری لہر کمزور پڑنے کے بعد اس بات کی امید جگی تھی کہ حالات معمول پر  لوٹ آئیں گے لیکن اب لگتا ہے کہ کرناٹک میں کورونا کی تیسری لہر نے دستک دے دی  ہے۔

ان دنوں برطانیہ اور روس میں جہاں کورونا کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ان ممالک میں کورونا وائرس کی جونئی قسم سامنے آئی ہے اسی قسم کے دو کیسوں کی کرناٹک میں نشاندہی سے ماہرین صحت کے حلقوں میں دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے اور حکومت اس خوف میں گھر گئی ہے کہ کہیں  کویڈ کی تیسری لہر  کی شروعات نہ ہو۔

کرناٹک کے وزیر صحت ڈاکٹر سدھا کر نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرناٹک میں شاید کورونا کی تیسر ی لہر نے دستک دے دی ہے، انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے اس پر قابو پانے کے لیے کویڈ ضابطے میں سختی لانا ناگز یر نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کے لئے آج صبح وزیر اعلی بسوراج بومائی کی صدارت میں کو وڈ تکنیکی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

سدھا کر نے اس سلسلہ میں ایک ٹوئٹ کر کے کرناٹک میں کورونا کی صورتحال کو فی الحال اطمینان بخش بتایالیکن خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں جس طرح کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور جس طرح برطانیہ، روس اور چین میں نئی قسم کے کورونا کے کیس بڑی تعداد میں سامنے آ رہے ہیں یہ باعث تشویش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ا س صورتحال سے نپٹنے کے لئے حکومت کی طرف سے چند سخت قدم ناگزیر نظر آرہے ہیں ۔

واضح رہے کہ کورونا کی اس نئی قسم کواے وائی -4.2 نام دیا گیا ہے اس کے روس اور برطانیہ میں جہاں ہزاروں معاملے سامنے آ گئے ہیں وہیں ملک بھر میں سات معاملوں کی نشاندہی ہوئی ہے، ان میں سے دوکر نا ٹک میں، دو مدھیہ پردیش میں اور تین دیگر ریاستوں سے جڑے ہوۓ ہیں جن میں پڑوسی ریاست مہاراشٹرا بھی شامل ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*