بنیادی صفحہ / تازہ خبریں / بھٹکل میں بجلی کی آنکھ مچولی؛ ایم ایل اے سنیل نائک اسمبلی میں اٹھائیں گے مسئلہ

بھٹکل میں بجلی کی آنکھ مچولی؛ ایم ایل اے سنیل نائک اسمبلی میں اٹھائیں گے مسئلہ

Print Friendly, PDF & Email

کیا بھٹکل میں 110/کے وی اسٹیشن کا قیام ممکن نہیں ؟؟؟

بھٹکل: 20 جون، 19 (بھٹکلیس نیوز بیورو) بھٹکل میں بجلی کا مسئلہ  بہت ہی  سنگین رخ اختیار کر تا جارہا ہے یہاں وقفہ وقفہ سے بجلی غائب ہونے سے عوام کافی پریشان ہیں اور عوامی نمائندوں سے اس مسئلہ کے حل کی گہار لگا رہے ہیں۔ گزشتہ روز عید کے وقت بھی بجلی نہ رہنے کے سبب عوام نے ہیسکام دفتر کا گھیراؤ کیا تھا اور انجنئر کو معطل کرنے کی مانگ کی تھی۔

تاہم اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے رکن اسمبلی سنیل نائک نے آج ہیسکام محکمہ سے جڑے افسران کی ہنگامی نشست بلائی تھی لیکن چند اہم افسران کی مصروفیت کے باعث وہ  اس میں شریک نہیں ہوسکے جس کی وجہ سے انہوں نے یہ نشست 27/جون کے لیے ملتوی کردی۔

رکن اسمبلی کے قریبی ذرائع سے بھٹکلیس کو ملی اطلاع کے مطابق رکن اسمبلی اس مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کرکے  ہمیشہ کے لیےحل نکالنا چاہتے ہیں جس کے لیے انہوں نے محکمہ سے جڑے تمام افسران کو آج طلب کیا تھا تاکہ ان سے بجلی کٹوتی کی وجہ دریافت کی جائے اور اس کے حل کے ساتھ اس مسئلہ کو اسمبلی میں پیش کیا جائے۔

اصل مسئلہ کہاں ہے؟؟: بھٹکل میں آنے والی بجلی کی تاروں کو دیکھا جائے تو یہاں جوگ اور کدرا سے آنے والی بجلی کمٹہ، ہوناور اور آخر میں مرڈیشور کی 33/کے وی لائن کے ذریعے پہنچتی ہے۔  ان مقامات پر راستوں کے جانب جگہیں کم ہونے کی وجہ سے بجلی کے کھمبے جنگلوں اور پہاڑوں پر لگے ہوئے ہیں جہاں کبھی بھی کوئی فالٹ ہوتا ہے تو اس کو ڈھونڈنے میں تاخیر ہوجاتی ہے جس کا خمیازہ بھٹکل والوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔

آخر حل کیا ہے؟:اس کا حل یہی ہے کہ بھٹکل میں 110/کے وی اسٹیشن قائم کیا جائے یا پھر پڑوسی شہر بیندور (میسکام) کے ذریعے بجلی کی لائن لی جائے۔حلانکہ بھٹکل کے لیے 2010/میں ہی 110/کے وی اسٹیشن کی منظوری دی گئی تھی لیکن یہاں جگہ نہ ملنے اور عوامی تعاون کے نہ ہونے کے سبب یہ منصوبہ اب بھی وہیں اٹکا ہوا ہے۔

بھٹکل میں اسٹیشن سے کمٹہ اور ہوناور  کے عوام کو بھی ہوگی آسانی: اگر بھٹکل میں 110/کے وی اسٹیشن نصب کیا جاتا ہے تو میسکام یا پھر کے پی ٹی سی ایل کے ذریعے بجلی لی جاسکتی ہے اور اسے ہوناور اور کمٹہ کو بھی سپلائی کیا جاسکتا ہے جس سے وہاں کے عوام بھی اس مسئلہ سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں۔

اب اس پر محکمہ کو اور عوامی نمائندوں  و اداروں کو سوچنا ہے کہ وہ کس طرح اس مسئلہ کو حل کرتے ہیں اور عوام کو ایک بڑی مصیبت سے چھٹکارہ دلاتے ہیں۔

x

Check Also

ملک کومل گیاچاند: چندریان 2کوکامیابی کے ساتھ چھوڑا گیا، ہندوستان نے نئی تاریخ رقم کی

ہندوستان نے اپنے چاند مشن (چندریان2)کے ذریعہ ایک نئی تاریخ رقم کی ...