بنیادی صفحہ / قومی / کسانوں نے ٹھکرایا سرکار کا کھانا اور چائے ، کہا : ہم اپنا کھانا ساتھ لائے ہیں

کسانوں نے ٹھکرایا سرکار کا کھانا اور چائے ، کہا : ہم اپنا کھانا ساتھ لائے ہیں

Print Friendly, PDF & Email

نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں دہلی سرحد پر ملک بھر کے کسانوں کے دھرنے کا جمعرات کو آٹھواں دن ہے ۔ ایک طرف کسان احتجاج کرہے ہیں تو دوسری طرف حکومت کسانوں کو منانے میں لگی ہوئی ہے ۔ سرکار کے ساتھ بات چیت کیلئے 40 کسان تنظیموں کے لیڈران دہلی میں واقع وگیان بھون میں موجود ہیں ۔ حکومت کے ساتھ گفتگو میں حل کیا نکلے گا یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے ، لیکن شروعاتی دور میں کسان کافی غصے میں نظر آرہے ہیں ۔

کسان لیڈروں نے وگیان بھون میں سرکار کی طرف سے دئے جارہے کھانے یا چائے کو لینے سے انکار کردیا اور ان کا کھانا لنگر سے آیا ہے ۔ ایک کسان لیڈر نے کہا کہ ہم سرکار کے ذریعہ دئے جانے والے کھانے یا چائے کو قبول نہیں کررہے ہیں ، ہم اپنا کھانا خود لائے ہیں ۔

کسانوں نے حکومت کو دی وارننگ

نئے زرعی قوانین کی مخالفت میں دہلی کی سرحد پر مظاہرہ کررہے کسانوں نے پارلیمنٹ کا خصوصی سیشن بلاکر قانون واپس نہیں لئے جانے پر اپنا آندولن مزید تیز کرنے کی وارننگ دی ہے۔

دہلی کے کئی راستے آندولن کی وجہ سے متاثر

پولیس نے کسانوں کے آندولن کو دیکھتے ہوئے اترپردیش کے غازی آباد کو دہلی سے جوڑنے والی قومی شاہرہ پر پڑنے والے راستوں کو جمعرات کو بند کردیا ۔ آندولن کررہے کسانوں نے اپنے مطالبات تسلیم نہیں کئے جانے پر دہلی کے دیگر راستوں کو بند کرنے کی بدھ کو دھمکی دی تھی ۔

دہلی پولیس نے ٹویٹ کیا کہ مقامی پولیس نے قومی شاہراہ نو اور قومی شاہراہ 24 پر غازی آباد سے دہلی کیلئے راستوں کو بند کردیا ہے ۔ قومی شاہراہ ایک پر شنی مندر کے پاس دونوں جانب کے راستوں کو بند کردیا گیا ہے ۔

x

Check Also

کورونا: یوگی حکومت نے جیلوں میں بند قیدیوں کو پیرول پر رِہا کرنے کا کیا فیصلہ

اتر پردیش کی یوگی حکومت نے وبا کی دوسری لہر کو دیکھتے ...