بنیادی صفحہ / قومی / ’اسٹیچو آف یونٹی‘ کے ڈیلی کلیکشن اکاؤنٹ سے 5.25 کروڑ روپے غائب!

’اسٹیچو آف یونٹی‘ کے ڈیلی کلیکشن اکاؤنٹ سے 5.25 کروڑ روپے غائب!

Print Friendly, PDF & Email

ایچ ڈی ایف سی بینک کے وڈودرا برانچ منیجر نے پولس میں ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر 2018 اور مارچ 2020 کے درمیان کی مدت میں ’اسٹیچو آف یونٹی‘ اور اس سے منسلک پروجیکٹس کے ڈیلی کلیکشن اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر 5.25 کروڑ روپیہ کی چوری ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں نرمدا ضلع کی پولس نے ایک کیش مینجمنٹ کمپنی، رائٹر بزنس سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ملازمین کو بک کیا ہے۔

اس پورے معاملہ میں ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ نے ایک تفصیلی خبر شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شکایت درج ہونے کے بعد کیوڈیا پولس اسٹیشن نے اسٹیچو آف یونٹی کے مالی لین دین کی جانچ شروع کر دی ہے۔ پیر کی دیر رات درج کردہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ بینک نے اسٹیچو آف یونٹی کے لیے ڈور اسٹیپ کیش کلیکشن کی سہولت دینے کے لیے رائٹر بزنس نام کی کمپنی کو مقرر کیا تھا جس کے پاس کووڈ-19 لاک ڈاؤن سے پہلے سیاحتی مقام کے مختلف پروجیکٹس میں داخلے کے لیے آف لائن ٹکٹ کاؤنٹر کے ساتھ ہی مقرر پارکنگ فیس بھی تھی۔

اسٹیچو آف یونٹی کے ایک افسر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’’ایچ ڈی ایف سی بینک ’اسٹیچو آف یونٹی انتظامیہ‘ کے ذریعہ ڈیلی مختلف آف لائن ٹکٹ کاؤنٹر اور پارکنگ فیس کے ذریعہ جمع کیے جا رہے کیش کے لیے سروس فراہم کر رہا ہے، اور اسے اپنے وڈودرا برانچ میں اسٹیچو آف یونٹی بینک اکاؤنٹ میں جمع کر رہا ہے۔ حاصل نقدی کی رسید اسٹیچو آف یونٹی انتظامیہ کو جاری کی جاتی ہے اور اسے وقت وقت پر بینک اکاؤنٹ میں کی گئی نقدی جمع رسیدوں کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ کووڈ-19 پابندیوں میں ڈھیل کے بعد ایچ ڈی ایف سی کے ساتھ کیے گئے صلح کے دوران اسٹیچو آف یونٹی کے آڈیٹرس نے نوٹس کیا کہ بینک کی جانب سے رائٹر بزنس کے افسران کے ذریعہ پیش کی گئی رسیدیں اکاؤنٹس میں حقیقی جمع کے ساتھ میل نہیں کھاتی ہیں۔

افسران نے بتایا کہ 5.25 کروڑ روپے کی رقم غائب ملی تھی، حالانکہ ہمارے ریکارڈ کی رسید میں دکھایا گیا تھا کہ ایچ ڈی ایف سی بینک کے ایجنٹ کو رقم سونپ دی گئی تھی، جس کے بعد اس ایشو کو بینک کے ذریعہ اٹھایا گیا اور اب اس معاملے میں جانچ شروع کی گئی ہے۔

نرمدا ضلع کلکٹر ڈی اے شاہ، جو کہ اسٹیچو آف یونٹی کی چیف ایگزیکٹیو افسر بھی ہیں، نے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس میں ضلع انتظامیہ، ایچ ڈی ایف سی بینک، اسٹیچو آف یونٹی کے افسران کے ساتھ ساتھ ایچ ڈی ایف سی بینک کے ایجنٹ بھی شامل تھے۔ شاہ نے مزید کہا کہ اسٹیچو آف یونٹی انتظامیہ سے نقدی کے جمع کے لیے اور بینک اکاؤنٹ میں اسے جمع کرانے کے لیے ایچ ڈی ایف سی بینک نے رائٹر سیف گارڈ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کو مقرر کیا ہے۔ یہ پوری طرح سے ان کا اندرونی نظام ہے اور اسٹیچو آف یونٹی انتظامیہ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس لیے ایچ ڈی ایف سی بینک اس لین دین کے عمل کے لیے پوری طرح سے ذمہ دار ہے۔

دوسری طرف کیوڈیا کے پولس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ وانی دودھات نے کہا کہ ’’اسٹیچو آف یونٹی نے ہمیں بڑی تعداد میں ڈیلی رسیدیں اور لین دین کی پرچی دستیاب کرائی ہیں، جن کی ہم جانچ کر رہے ہیں۔ ہم مذکورہ مدت کے دوران ان ملازمین کی شناخت کرنے کے بعد ان سے پوچھ تاچھ کرنے کے لیے ایجنسی کے ملازمین کو بلائیں گے۔‘‘

x

Check Also

سپریم کورٹ نے مجھے کلین چٹ دے دی لیکن یوگی حکومت مجرم ثابت کرنے پر آمادہ: ڈاکٹر کفیل

دیوبند: چار سال قبل گورکھپور کے بی آری ڈی ہسپتال میں پیش ...