بنیادی صفحہ / قومی / گوپال کرشن گاندھی نے اپوزیشن جماعتوں کی تجویز کو مسترد کیا، صدر جمہوریہ الیکشن لڑنے سے کیا انکار

گوپال کرشن گاندھی نے اپوزیشن جماعتوں کی تجویز کو مسترد کیا، صدر جمہوریہ الیکشن لڑنے سے کیا انکار

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی: مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی  نے آئندہ صدارتی الیکشن  لڑنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران کی اپیل کو پیر کو نامنظور کردیا اور کہا کہ الیکشن میں ایسا امیدوار ہونا چاہئے، جس کے لئے قومی سطح پر رضامندی ہو اور اپوزیشن اتحاد یقینی بنائے۔ ایک بیان میں گوپال کرشن گاندھی (77) نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے کئی لیڈران نے صدر جمہوریہ عہدہ کے آئندہ انتخابات میں اپوزیشن کا امیدوار بننے کے لئے ان کے نام پر غور کیا جو، ان کے لئے اعزاز اور احترام کی بات ہے۔

گوپال کرشن گاندھی نے مزید کہا، ’میں ان کا بہت شکر گزار ہوں، لیکن اس معاملے پر گہرائی سے غوروخوض کرنے کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ اپوزیشن کا امیدوار ایسا ہونا چاہئے، جو اپوزیشن اتحاد کے علاوہ قومی سطح پر عام رضامندی ظاہر کرے‘۔

گوپال کرشن گاندھی نے کہا، ’مجھے لگتا ہے کہ اور بھی لوگ ہوں گے جو مجھ سے کہیں بہتر کام کریں گے۔ اس لئے میں نے لیڈران سے گزارش کی ہے کہ ایسے شخص کو موقع دینا چاہئے۔ ہندوستان کو ایسا صدر ملے، جیسے کہ آخری گورنر جنرل کے طور پر راجہ جی (سی راج گوپال لاچاری) تھے اور جس عہدے کی سب سے پہلے زینت ڈاکٹر راجیندر پرساد نے بڑھائی‘۔ سابق نوکر شاہ گوپال کرشن گاندھی جنوبی افریقہ اور سری لنکا میں ہندوستان کے ہائی کمشنر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ گوپال کرشن، مہاتما گاندھی کے پرپوتے اور سی راج گوپال چاری کے پرناتی ہیں۔

نیشنسلٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شرد پوار اور 84 سالہ فاروق عبداللہ کے بعد گوپال کرشن گاندھی ایسے تیسرے شخص ہیں، جنہوں نے جولائی میں ہونے والے صدارتی الیکشن سے پہلے اپوزیشن کی طرف سے ممکنہ امیدوار کے طور پر اپنا نام واپس لے لیا ہے۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*