بنیادی صفحہ / قومی / طلاق بل پر مودی حکومت کا رویہ دستور کی روح کے خلاف ،صحت مند پارلیمانی نظام کے پیش نظر اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجاجائے :ملی کونسل

طلاق بل پر مودی حکومت کا رویہ دستور کی روح کے خلاف ،صحت مند پارلیمانی نظام کے پیش نظر اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجاجائے :ملی کونسل

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی ۔13فروری(پریس ریلیز)
پارلیمنٹ کی عظمت اور اس کے وقار کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں حکومت کے ذریعہ جو کام انجام دیا جاتاہے ،جومنصوبے تیا رکئے جاتے ہیں اور جو عملی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اس پر عوام کو جائزہ لینے کاحق حاصل ہو ،حزب اقتدار کے علاوہ ممبران پارلیمنٹ سماج کے حق میں اس کے اچھے برے ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہوںانہیں تجزیہ کرنے کی اجازت حاصل ہو۔ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔انہوں نے مزید کہاکہ اپوزیشن کی ذمہ داری عوام کے احساسات وجذبات سے حکمران وقت کو آگاہ کرناہے ،کسی بھی حکومت میں اپوزیشن کی اہمیت اسی لئے ہوتی ہے کہ وہاں حزب اختلاف کے ذریعہ عوام کے مسائل کی درست ترجمانی کی جاتی ہے ۔جمہوریت اور آمریت میں یہی فرق ہے کہ جمہوریت میں ارباب اقتدار کے علاوہ کو بھی اپنی بات رکھنے کا اختیار ہوتاہے جبکہ آمریت میں اپویشن اور حزب اختلاف کا کوئی تصور نہیں ہوتاہے ،جو فیصلہ ہوگیا وہ پتھر کی لکیر ہے ۔
یہ بات افسوسناک ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے ہندوستان کے پارلیمانی نظام میں جو کچھ ہورہاہے وہ صحت مند نہیں ہے ۔ عوام کی جانب سے بھی پارلیمانی نظام پر مسلسل سوالات اٹھائے جارہے ہیں،لوگوں میں تشویش کا ماحول ہے جو بہر حال درست نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ میڈیا کے ذریعہ ان چیزوں کو نہیں دیکھایاجاتاہے ۔
ڈاکٹر محمد عالم نے مزید کہاکہ پارلیمانی نظام جملے بازی اور ڈھونس جمانے سے نہیں چلتاہے بلکہ اعتماد پیدا کرنا اور عوام کا خیال رکھنا ضروری ہوتاہے۔ اسٹیک ہولڈر اور صاحب مسئلہ سے بھی بات کرنی ضرورتی ہے ۔جس کمیونٹی کے بارے میں قانون بنا یاجاتاہے اس کے لوگوں کی رائے لینی بھی ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے مسائل بتاسکیں اور بہتر شکل میں قانون بن سکے ۔ڈاکٹرمحمد منظور عالم نے یہ بھی کہاکہ جب پارلیمنٹ میں کسی بل پر ممبران کی اچھی خاصی تعداد تشویش کا اظہار کرتی ہے تو اسے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجاجاتاہے تاکہ تمام اعتراضات اور تشویش کو مد نظرر کھتے ہوئے ایک جامع قانون مرتب ہوسکے اور کسی کمیونٹی کو یہ احساس نہ ہوکہ ان کی آواز دبائی جارہی ہے ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے زوردیتے ہوئے کہاکہ حکومت بالخصوص وزیر اعظم صاحب کو ا س جانب توجہ دینی چاہیئے ۔طلاق بل کے سلسلے میں حکومت نے جو رویہ اختیار کررکھاہے وہ دستوری نظام اور آئین کی روح کے خلاف ہے ۔ملک کی بھائی چارگی اور پیارومحبت کیلئے بھی یہ غیر مناسب ہے ۔ا سلئے بہتر یہی ہوگاکہ وزیر اعظم صاحب طلاق بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجیں اور جو اعتراضات کئے جارہے ہیں اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک جامع اور متواز ن قانون بنایاجائے ۔

x

Check Also

اشوک گہلوت کےسرراجستھان کا کا تاج، سچن پائلٹ کونائب وزیراعلیٰ کی ذمہ داری،عوام کی امیدوں پرکھرا اترنے اوراچھی حکومت دینےکا وعدہ

کئی روزکے انتظارکے بعد آخرکارراجستھان کو اس کا وزیراعلیٰ مل گیا ہے۔ ...