بنیادی صفحہ / قومی / شکست کے خوف سے بی جے پی میں کھلبلی، کئی اراکین پارلیمنٹ کا ٹکٹ خطرے میں
[adrotate banner="161"]

شکست کے خوف سے بی جے پی میں کھلبلی، کئی اراکین پارلیمنٹ کا ٹکٹ خطرے میں

Print Friendly, PDF & Email

لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کےساتھ ہی سبھی پارٹیاں امیدواروں کے انتخاب میں مصروف ہو گئی ہیں۔ خبر ہے کہ بی جے پی اپنے موجودہ 40 فیصد اراکین پارلیمنٹ کا پتّہ کاٹنے والی ہے۔ کئی اراکین پارلیمنٹ کی سیٹیں بھی بدلنے کی خبریں گشت کر رہی ہیں۔ کسی سیٹ پر اقتدار مخالف لہر سے نمٹنے کے لیے امیدوار بدلے جا رہے ہیں تو کہیں ذات پر مبنی ایکویشن کو دیکھتے ہوئے امیدوار طے کیے جا رہے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ بی جے پی کے کون سے بڑے لیڈران ہیں جن کو 2014 والی سیٹ سے ٹکٹ ملنا مشکل ہے۔

پی ایم مودی اڈیشہ کی اس سیٹ سے لڑ سکتے ہیں انتخاب:

سب سے پہلے بات کرتے ہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں۔ ایسی خبریں ہیں کہ بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی کو اڈیشہ کے پُری لوک سبھا سیٹ سے اتارنے کی تیاری کر رہی ہے۔ دراصل بی جے پی اڈیشہ اور مغربی بنگال میں اپنی بنیاد مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ ایسے میں اس بار پی ایم مودی گزشتہ انتخاب کی طرح دو سیٹوں سے امیدوار ہو سکتے ہیں۔ وارانسی کے علاوہ وڈودرا کی جگہ وہ اس بار بھگوان جگن ناتھ کے شہر پُری سے اتر سکتے ہیں۔ اس کے ذریعہ ان کی کوشش اڈیشہ میں پارٹی کے حق میں ماحول تیار کرنے کی ہو سکتی ہے۔

پیلی بھیت سے ورون گاندھی ہو سکتے ہیں امیدوار:

خبر ہے کہ پیلی بھیت سے اس مرتبہ ورون گاندھی لوک سبھا انتخاب لڑ سکتے ہیں۔ مرکزی وزیر مینکا گاندھی اپنے بیٹے کے لیے یہ سیٹ چھوڑ سکتی ہیں۔ مینکا گاندھی ہریانہ کے کرنال سیٹ سے لڑنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ فی الحال ورون گاندھی سلطان پور سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ ہیں۔

گری راج سنگھ اس بار نوادہ سے نہیں لڑ پائیں گے لوک سبھا انتخاب:

مرکزی وزیر مملکت گری راج سنگھ کا نوادہ سے ٹکٹ کٹ سکتا ہے۔ دراصل بہار کی 40 سیٹوں میں سے بی جے پی اور جنتا دل یو 17-17 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ نوادہ کی سیٹ جنتا دل یو کے حصے میں جا رہی ہے۔ ایسے میں گری راج سنگھ کا ٹکٹ کٹنا طے ہے۔ حالانکہ انھیں بیگوسرائے سے ٹکٹ دیئے جانے کی بھی باتیں چل رہی ہیں، لیکن گری راج سنگھ وہاں سے انتخاب نہیں لڑنا چاہتے۔ سماجی تانے بانے کو دیکھیں تو نوادہ کے مقابلے میں بیگوسرائے میں بھومیہار ووٹ کم ہیں۔ ایسے میں ان کے لیے اس انتخاب میں جیت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ایسے میں سیٹ بدلنے کی وجہ سے گری راج سنگھ ناراض بتائے جا رہے ہیں۔

راج ناتھ سنگھ کی بدلے گی سیٹ:

راج ناتھ سنگھ کی سیٹ ایک بار پھر سے بدلی جا سکتی ہے۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو لکھنؤ کی جگہ گوتم بدھ نگر سے انتخابی میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔ خبر ہے کہ دیہی علاقوں میں پارٹی کے تئیں ناراضگی کو تھامنے کے لیے راج ناتھ سنگھ کو لکھنؤ کی جگہ نوئیڈا سے امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف یہاں کے موجودہ رکن پارلیمنٹ مہیش شرما کو الور سے اتارا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی کے داخلی سروے میں رپورٹ بہت اچھی نہ رہنے کے بعد انھیں نوئیڈا سیٹ سے ہٹانے کا فیصلہ لیا ہے۔

ساکشی مہاراج پر کشمکش کی حالت برقرار:

اپنے بیانوں کو لے کر موضوعِ بحث رہنے والے شعلہ بیان لیڈر ساکشی مہاراج کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے۔ ساکشی مہاراج فی الحال اناؤ سیٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ حالانکہ ابھی پارٹی کی طرف سے کچھ نہیں کہا گیا ہے، لیکن ساکشی مہاراج کو ٹکٹ کٹنے کا ڈر ستا رہا ہے۔ تبھی انھوں نے خود ریاستی بی جے پی صدر کو خط لکھ کر متنبہ کیا ہے کہ اگر اس سیٹ سے کوئی دوسرا امیدوار اتارا جاتا ہے تو پارٹی ہار بھی سکتی ہے۔

نئی دہلی سے گوتم گمبھیر ہو سکتے ہیں بی جے پی امیدوار:

خبر ہے کہ سابق کرکٹر گوتم گمبھیر اپنی نئی اننگ سیاست میں شروع کرنے والے ہیں۔ بی جے پی انھیں نئی دہلی لوک سبھا سیٹ پر میناکشی لیکھی کی جگہ اتار سکتی ہے۔ موجودہ رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھی کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے۔ ویسے بھی میناکشی پر کم سرگرم رہنے کے الزام عائد ہوتے رہے ہیں۔

الٰہ آباد سے بھی نئے امیدوار کو مل سکتا ہے موقع:

بی جے پی الٰہ آباد سے رکن پارلیمنٹ شیاما چرن گپتا کی جگہ کسی اور کو ٹکٹ دے سکتی ہے۔ بتا دیں کہ پچھلے انتخاب میں ہی شیاما چرن گپتا سماجوادی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ ان کے بیٹے نے ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں آزادانہ انتخاب لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کو گپتا کے ذریعہ پارٹی پر دباؤ بنانے کی پالیسی تصور کیا جا رہا ہے۔

[adrotate group="32"]
x

Check Also

وزیراعلیٰ نتیش کمار پہنچے مظفر پور:نتیش کمار کے خلاف اسپتال کے باہر لوگوں کا احتجاج

بہارمیں دماغی بخار کا قہر جاری ہے -اب تک 132بچے جاں بحق ...