بنیادی صفحہ / قومی / چینی فوج کو سبق سکھانے کے لئے ہندوستانی فوجیوں کو ملی پوری چھوٹ: ذرائع

چینی فوج کو سبق سکھانے کے لئے ہندوستانی فوجیوں کو ملی پوری چھوٹ: ذرائع

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی: مشرقی لداخ (East Ladakh) کی گلوان وادی (Galwan Valley) میں ہندوستان اور چین کی فوجیوں کے درمیان ہوئے پُرتشدد جھڑپ کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چین کے ساتھ متصل 3,500 کلو میٹر لمبی اصل کنٹرول لائن پر تعینات مسلح افواج کو چین کے کسی بھی جارحانہ رویے کو منہ توڑ جواب دینے کی پوری آزادی دی گئی ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ لداخ میں حالات پر اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد ذرائع نے یہ اطلاع دی۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اس میٹںگ میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت، فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نرونے، نوسینا سربراہ ایڈمرل کرم بیر سنگھ اور فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل آرکے ایس بھدوریا نے حصہ لیا۔ ذرائع نے بتایا کہ راجناتھ سنگھ نے اعلیٰ فوجی افسران کو زمینی سرحد، ہوائی علاقوں اور اسٹریٹجک سمندری راستوں میں چین کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھنے کے احکامات دیئے اور چینی فوجیوں کے کسی بھی کائرانہ حرکت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے سخت رخ اپنانے کو کہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مسلح افواج نے دونوں ممالک کے درمیان اصل کنٹرول لائن پر چین کی فوج کے کسی بھی عمل کے جارحانہ رویے سے نمٹنے کے لئے پوری آزادی دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور ہندوستانی فضائیہ نے چین کے کسی بھی کائرانہ حرکت سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لئے ایل اے سی پر اپنی مہم کے لحاظ سے تیاریوں کو پہلے ہی تیز کردیا ہے۔

تینوں افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا

واضح رہے کہ سرحد پر مگ، ہرکیولس، میراج، سکھوئی طیارے پہلے سے ہی ایل اے سی پر تعینات ہیں، لہٰذا فوج، بحریہ اور فضائیہ کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے تینوں افواج کو کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کو کہا ہے۔ اتنا ہی نہیں ہندوستانی فوج بحریہ کو  بحرہند علاقے میں اپنی سرگرمی بڑھا دینے کو کہا گیا ہے۔

(نیوز 18 )

x

Check Also

جامعۃ الفلاح میں’ گنگا سے زمزم تک کا روحانی و علمی سفر’ کا اجراء

آج جامعة الفلاح کے ابو اللیث ھال میں ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی ...