سعودی عرب کے فرماں رواں شاہ سلمان بن عبد العزيز آل سعود نے ایک شاہی فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت بعض عدالتی فیصلوں اور احکامات پر عمل درامد معطل کر دیا گیا ہے۔ فرمان کے تحت نجی حقوق کے سلسلے میں اُن قرض نادہندگان کو عارضی طور پر فوری رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کو عدالتی فیصلے پر عمل درامد کرتے ہوئے حراست میں رکھا گیا تھا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ فرمان منگل کے روز جاری کیا گیا۔

اسی طرح اُن عدالتی احکامات پر عمل درامد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے جن میں بچوں کی اپنے علاحدہ ہو جانے والے والدین میں سے کسی ایک سے ملاقات کو ممکن بنایا گیا تھا۔ فیصلوں اور احکامات پر عمل درامد ،،، متعلقہ کمیٹی کی جانب سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مطلوب تمام تر احتیاطی اقدامات مکمل ہونے کے اعلان تک معطل رہے گا۔

سعودی وزیر انصاف اور عدلیہ کی سپریم کونسل کے سربراہ شیخ ڈاکٹر ولید بن محمد الصمعانی نے اس انسان دوست جذبے پر سعودی فرماں روا اور ولی عہد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مملکت کی اولین ترجیح انسانی صحت ہے۔ شاہی فرمان کا اطلاق سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں دونوں پر ہو گا۔