بنیادی صفحہ / خلیجی / سعودی عرب میں جو بائیڈن نے شہزادہ محمد بن سلمان سے کیا سوال، صحافی خاشقجی کے قتل کا معاملہ اٹھایا

سعودی عرب میں جو بائیڈن نے شہزادہ محمد بن سلمان سے کیا سوال، صحافی خاشقجی کے قتل کا معاملہ اٹھایا

Print Friendly, PDF & Email

امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کے دورے کے دوران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے کچھ سخت سوالات کیے ہیں۔ جو بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔ جو بائیڈن اس وقت سعودی عرب میں ہیں تاکہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی پرانی گرمجوشی بحال کر سکیں جبکہ جو بائیڈن نے اس سے قبل انسانی حقوق کے ریکارڈ کے معاملے پر سعودی عرب کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ 2018 میں ہونے والا قتل ‘میرے اور امریکہ کے لیے بہت اہم تھا’۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک دیگر معاملات پر بھی ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں۔ جب کہ اکتوبر 2018 میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں منحرف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے باوجود بہت سے لوگوں نے بائیڈن کے سعودی عرب جانے پر تنقید کی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی منظوری دینے کا الزام لگایا تھا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے اور سعودی عرب نے کچھ  ا سعودی ایجنٹوں کو اس کیلئے قصوروار ٹھہرایا ہے۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ جمعے کی ملاقات کے بعد، جو بائیڈن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ‘میں نے اسے خاشقجی کے قتل کے بارے میں ملاقات میں سب سے اوپر اٹھایا۔ جس سے یہ واضح ہو گیا کہ میں اس وقت اس کے بارے میں کیا سوچتا تھا اور اب اس کے بارے میں کیا سوچتا ہوں۔ میں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایک امریکی صدر کا انسانی حقوق کے معاملے پر خاموش رہنا اس بات سے مطابقت نہیں رکھتا کہ ہم کون ہیں اور میں کون ہوں۔ میں ہمیشہ اپنی اقدار کے لیے کھڑا رہوں گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*