سعودی عرب پہلا خلیجی ملک ہے جس نے کفیل نظام کے خاتمے کی سمت پیش قدمی کرتے ہوئے ’’گرین کارڈ‘‘ کا نیا پروگرام متعارف کرایا ہے۔ ‘منفرد اقامہ’ منصوبے کے ذریعے ملک میں مروجہ کفیل سسٹم ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

سنہ 2016ء کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے مملکت میں ‘گرین کارڈ’ کی طرز پر نیا ویزہ اور اقامہ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین کارڈ دوسرے عرب ملکوں‌ کے باشندوں اور تارکین وطن کو سعودی عرب میں طویل وقت تک قیام کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ سعودی عرب میں آنے والے غیر ملکی مملکت میں سرمایہ کاری کا ذریعہ بنیں گے اور یہ نیا پروگرام آئندہ پانچ سال میں لاگو کر دیا جائے گا۔‘‘

سعودی عرب کے اقتصادی امور کے ماہر اور مجلس شوریٰ‌ کے رکن فہد بن جمعہ نے اخبار ‘الاقتصادیہ’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرین کارڈ پروگرام مملکت میں مالی طور پر مستحکم غیر ملکیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں گرین کارڈ پروگرام کے تحت غیر ملکیوں کو سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین کارڈ سعودی مملکت اور اسے حاصل کرنے والے افراد دونوں کے لیے کاروباری اعتبار سے مفید ثابت ہوگا۔

سعودی عرب کی شوریٰ‌ کے سابق رکن ڈاکٹر احسان بوحلیقہ نے کہا کہ منفرد اقامہ پروگرام کے سعودی عرب پر مثبت اثرات مرتب ہوں‌ گے۔ سعودی عرب کی معیشت میں ایک تنوع آئے گا اور ملک میں موجود مختلف مہارتوں کے حامل میں غیر ملکیوں کو اپنی مہارتوں کے استعمال کا موقع ملے گا۔ ان کا کہنا تھا ملک میں مروجہ کفیل سسٹم کی وجہ سے غیر ملکی شہریوں کے لیے مملکت میں سرمایہ کاری کے لیے کئی طرح کی رکاوٹیں تھیں۔ گرین کارڈ کے ذریعے یہ رکاوٹیں ختم کردی گئی ہیں۔ گرین کارڈ کے اعلان کے بعد بیرون ملک سے سعودی  میں سرمایہ کاروں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگا۔