متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی سہيل محمد فرج المزروعی نے کہا ہے کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) امریکا کی دشمن نہیں ہے۔

انھوں نے یہ بات ہفتے کے روز ابوظبی میں منعقدہ ایک صنعتی کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اوپیک اور امریکا ایسے تیل کے صارف بڑے ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اظہار خیال کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہم ایک دوسرے کے ساجھی ہیں اور دشمن نہیں ہیں‘‘۔

واضح رہے کہ اوپیک ، روس اور تیل پیدا کرنے والے دوسرے ممالک نے دسمبر میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے جنوری سے اپنی یومیہ پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی مجموعی طور پر کمی سے اتفاق کیا تھا۔

انھوں نے یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے اوپیک اور اس کے ساتھ سمجھوتے میں شریک ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی پیداوار میں کمی نہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔

سہیل مزروعی نے بتایا کہ 2018ء کے دوران میں تیل کی فی بیرل اوسط قیمت 70 ڈالر رہی تھی۔ان کی رائے تھی کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لیے یومیہ پیداوار میں 12 لاکھ بیرل کی کمی مناسب ہے۔ان کے بہ قول اسی ماہ سے بہتری شروع ہوجائے گی اور سال کی پہلی ششماہی میں یہ تکمیل کو پہنچے گی۔

اماراتی وزیر تیل نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو اپریل سے قبل اپنا کوئی غیر معمولی اجلاس بلانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ان کے اومانی ہم منصب محمد بن حمد الرمحی نے اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ توقع ظاہر کی ہے کہ 2019ء میں تیل کی فی بیرل اوسط قیمت 60 سے 80 ڈالر کے درمیان رہے گی۔انھوں نے بھی کہا کہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کو اپریل میں طے شدہ اجلاس سے قبل کوئی غیر معمولی اجلاس نہیں بلانا چاہیے کیونکہ اب چیزیں بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

اومان (عُمان) اوپیک کا رکن ملک نہیں ہے لیکن اس نے بھی تیل کی پیداوار میں کمی کے لیے اس تنظیم اور روس کی قیادت میں دوسرے ممالک کے درمیان طے شدہ سمجھوتے پر دست خط کیے تھے اور اس نے بھی اپنی پیداوا ر میں کمی کردی ہے۔