سعودی عرب کی میزبانی میں مکہ معظمہ میں منعقد ہونے والا خلیج تعاون کونسل کا اجلاس ختم ہو گیا ہے۔ اجلاس کے آخر میں‌ جاری نو نکاتی اعلامیے میں خطے کے ممالک میں ایرانی رجیم کی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے تہران کے جارحانہ عزائم کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ایرانی ایجنٹوں کے حملوں اور متحدہ عرب امارات کے قریب علاقائی پانیوں‌ میں تیل بردار جہازوں پر تخریب کاری کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

اعلامیے میں رکن ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ خلیج تعاون کونسل نے عالمی برادری سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے ساتھ تہران کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کا پابند بنائے۔

اعلامیے میں ایرانی رجیم کو حکمت اور دانش مندی کا مظاہرہ کرنےاور خطے میں‌ فرقہ واریت کو ہوا دینے سے باز رہنے کا مشورہ دیا گیا۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر بلائے گئے خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نھیان، بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ، سلطنت آف اومان کے شاہی مشیر شہاب بن طارق آل سعید، قطر کے وزیراعظم و وزیر داخلہ الشیخ عبداللہ بن ناصربن خلیفہ آل ثانی، امیرکویت الشیخ صباح الاحمد الجابر الصباح اور خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹرعبداللطیف بن راشد الزیانی نے شرکت کی۔

خلیجی قیادت نے خطے کو درپیش خطرات کے تناظر میں خلیجی، عرب اور اسلامی سربراہی اجلاس طلب کرنے پر خادم الحرمین الشریفین کی کوششوں‌ کو سراہا۔ اجلاس سے خطاب میں مقررین نے خلیج کو درپیش خطرات کا مل کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں خطے میں ایرانی مداخلت کی شدید مذمت کی گئی۔ عرب ممالک کے تیل بردار جہازوں، سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں اور خطے کو عدم استحکام سے دوچا کرنے کی ایرانی سازشوں کی مذمت کے بعد تہران کی ریشہ دوانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے فیصلہ کیا گیا۔

اعلامیے میں سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر یمن کے حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

حوثی ملیشیا کی طرف سے سعودی عرب کے شہر مکہ معظمہ پر میزائل حملوں‌ اور ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں‌ کو کھلی دہشت گردی قرار دیا گیا۔

اعلامیے میں متحدہ عرب امارات کے قریب چار تیل بردار جہازوں‌ پر رواں‌ ماہ ہونے والے تخریب کارانہ حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔

اعلامیے میں خلیجی ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی فضاء قائم کرنےاور کونسل کے رکن ممالک کے درمیان پائے جانے والے اختلافات دور کرنے، مشترکہ اسلامی عقیدے اور عرب ثقافت کے تحت تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اجلاس کے بعد جاری بیان میں‌ خلیجی ممالک کو درپیش سیکیورٹی خطرات اور چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے اور ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے سے اتفاق کیا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ بین الاقوامی اصولوں، برابری اور اقوام متحدہ کے وضع کردہ قواعد کے مطابق تعلقات کے قیام پر زور دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایران کوخطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں داخلت ختم اور ایک اچھے ہمسائے کے طور پر آگے بڑھنا ہوگا۔ ایران کی طرف سے طاقت کے استعمال، دھمکی آمیز طرز عمل، فرقہ واریت کی حمایت، بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری ہتھیاروں کا حصول قابل قبول نہیں۔

اعلامیے میں واضح‌ کیا گیا ہے کہ خطے کو درپیش خطرات کی روک تھام کے لیے خلیجی ممالک امریکا اور اپنے دوسرے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں‌ گے۔