گذشتہ جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے صدر الشیخ خلیفہ بن زاید النہیان نے وفاقی قومی کونسل کے قانون سازی باب کے دوسرے اجلاس کے افتتاحی اجلاس میں تقریر میں کہا تھا کہ ” معاہدہ ابراہیم” جو اسرائیل کے ساتھ طے پایا ہے وہ امن کا ایک نیا باب ہے۔ اس معاہدے سے خوشحالی کے حصول کے لیے خطے کے عوام کی دیرینہ خواہشات اور امنگوں کی ترجمانی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہمیں اپنی پالیسی کے مطابق ان ممالک کو جو اپنے ملک اور اپنے خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیادوں کی حمایت ، بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری ، پرامن بقائے باہمی اور بات چیت کے ذریعے تنازعات کو حل کرنا چاہتے ہیں انہیں اپنے قریب لانا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین امن معاہدے پر دستخط کے بعد سے دونوں فریقوں نے متعدد معاشی اور تجارتی معاہدوں پر کام شروع کیا ہے۔ 22 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے امور خارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے اعلان کیا کہ امارات کے شہری بغیر کسی ویزا کے اسرائیل جا سکتے ہیں اور 90 دن تک قیام کر سکتے ہیں۔