بنیادی صفحہ / خلیجی / عراقی وفود اسرائیل کیوں گئے؟ پارلیمنٹ میں نئی بحث چھڑ گئی

عراقی وفود اسرائیل کیوں گئے؟ پارلیمنٹ میں نئی بحث چھڑ گئی

Print Friendly, PDF & Email
العربیہ ڈاٹ نیٹ ۔ ایجنسیاں

اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق سال 2018ء کے دوران عراق سے تین عرب وفود نے خفیہ طور پر تل ابیب کا دورہ کیا تھا۔ جس کے بعد ملک کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی اور سرکاری اور غیر سرکاری شخصیات کے دورہ اسرائیل کی مذمت کی جا رہی ہے۔

صہیونی ریاست کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس عراق سے 3 وفود نےاسرائیل کا دورہ کیا۔ ان وفود میں مجموعی طورپر 15 افراد اسرائیل آئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق کا تیسرا وفد حال ہی میں واپس روانہ ہوا۔ ان وفود میں اہل سنت اور اہل تشیع کی سرکردہ شخصیات اور سرکردہ عراقی شخصیات شامل تھیں۔

 تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ وفود بغداد سے آئے تھے یا کردستان سے تھے۔ اسرائیل عراق کے صوبہ کردستان کی علاحدگی کی حمایت کرتا ہے۔

گذشتہ ہفتے عراق کی پارلیمنٹ نے وزیر خارجہ کے ایک متنازع بیان کے بعد ان سے پارلیمنٹ میں وضاحت طلب کی تھی۔ عراقی وزیر خارجہ محمد الحکمیم نے کہا کہ تھا کہ ان کی حکومت فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کی حامی ہے۔

خیال رہے کہ عراق ماضی میں اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا رہا ہے مگر دو ریاستی حل کہہ کر وزیر خارجہ نے فلسطین میں صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

عراق کے ایک سرکردہ رہ نما مثال الالوسی نے وفود کےدوروں کی خبریں سامنے آنے کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تل ابیب کے ساتھ رابطے شروع کرے۔

x

Check Also

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ کی سعودی ولی عہد سے ملاقات

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل کینتھ میکنزی نے سوموار کو ...