دبئی نے چار اپریل کو رات آٹھ بجے سے دوہفتے کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ اس امارت میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ملک گیر قومی صفائی پروگرام کے دوران میں 24 گھنٹے کا کرفیو نافذ ہے اورلوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر پابندی عاید ہے۔

ای کامرس کو استثنا

دبئی نے برقی تجارت (ای کامرس) کرنے والے اداروں کو پابندیوں سے مستثنا قرار دے دیا ہے۔ نون اور امازون ایسے ادارے اپناکاروبار جاری رکھ سکتے ہیں اور انھیں دوسرے اداروں کی طرح اجازت نامے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

دبئی کے محکمہ اقتصادی ترقی نے ایک ٹویٹ میں بھی اس کی وضاحت کی ہے اور کہا ہے کہ ای کامرس کے شعبے کو سپلائی چین سیکٹر کے تحت سرگرمی سمجھا جائے گا۔انھیں اجازت نامہ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم انھیں مندرجہ ذیل شرائط و ضوابط کے تحت کام کرنا ہوگا:

اوّل:ان کے ہاں صارفین نہیں آنے چاہییں۔

دوم: وہ صفائی اور سماجی فاصلے سے متعلق رہ نما ہدایات پر عمل درآمد کریں۔

دبئی حکومت نے اتوار کو کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے قومی صفائی پروگرام کے تحت لوگوں کی 24 گھنٹےعام نقل وحرکت پر پابندی عاید کردی تھی۔اس دوران میں ڈرائیور حضرات ،پیدل اور سائیکل سواروں کو باہر نکلنے کی صورت میں حکومت سے اجازت لینے کا پابند بنایا گیا ہے۔

سوموارکودبئی میں ٹرانسپورٹ کے متبادل کے طور پر پیدل چلنے اور سائیکل سواری کو متعارف کرایا گیا ہے لیکن اس کے لیے بھی لوگوں کو اجازت نامہ لینے کی ضرورت ہے۔

پولیس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ پیدل چلنے یا سائیکل سواری کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے کی غرض سے اس ویب سائٹ پر اپنے ناموں اور دیگر تفصیل کا اندراج کریں:https://dxbpermit.gov.ae/permits.

دبئی کی سپریم کمیٹی برائے کرائسس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ اس ویب سائٹ سے عام لوگ نقل وحرکت کے لیے اجازت نامہ حاصل کرسکتے ہیں۔ انھیں اشیائے ضروریہ ، خوراک اور ادویہ وغیرہ کی خریداری کے لیے گھر سے باہر جانے کی اجازت ہے۔وہ ہنگامی طبی امداد اور کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کے لیے بھی جاسکتے ہیں۔‘‘

کمیٹی نے وضاحت کی ہے کہ جو لوگوں ٹریفک اور نقل وحرکت کی پابندیوں سے مستثنا شعبوں میں کام کررہے ہیں، انھیں اس نئی ویب سائٹ پر اپنا اندراج کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔