بنیادی صفحہ / خلیجی / کورونا بحران سے خراب ہوئی سعودی عرب کی معاشی حالت ، تین گنا بڑھا ٹیکس ، اخراجات میں بھی بڑی کٹوتی

کورونا بحران سے خراب ہوئی سعودی عرب کی معاشی حالت ، تین گنا بڑھا ٹیکس ، اخراجات میں بھی بڑی کٹوتی

Print Friendly, PDF & Email

سعودی عرب نے پیر کو کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وجہ سے بحران اور تیل کی قیمتوں میں گراوٹ سے معیشت کو پہنچے نقصان کی وجہ سے بنیادی سامانوں پر ٹیکس میں تین گنا اضافہ کرکے انہیں ۱۵ فیصد تک بڑھا رہا ہے اور اہم منصوبوں پر اخراجات میں تقریبا 26 ارب ڈالر کی کٹوتی کررہا ہے ۔

سعودی عرب کے وزیر خزانہ کے مطابق وہاں کے شہریوں کو 2018 سے شروع ہوا رعایتی اخراجات بھتہ بھی نہیں ملے گا ۔ معیشت میں تنوع لانے کی کوششوں کے باوجود سعودی عرب آمدنی کیلئے تیل پر کافی زیادہ منحصر ہے ۔ برینٹ کروڈ اس وقت 30 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ہے ۔ قیمت کی یہ سطح سعودی عرب کے اپنے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے کافی کم ہے ۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس کی وجہ سے لاگو لاک ڈاون کی وجہ سے مقدس مقامات مکہ ور مدینہ کا سفر بھی بند ہے ، جس کی وجہ سے ملک کی آمدنی کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ساتھ ہی اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اس سال سعودی عرب کے پڑوسی ممالک بھی اپنے شہریوں پر اونچا ٹیکس لگا سکتے ہیں ۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا اندازہ ہے کہ سبھی چھ تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک میں اس سال اقتصادی مندی رہے گی ۔ سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد الزادان نے کہا کہ ہم ایسے بحران کا سامنا کررہے ہیں ، جس کو جدید تاریخ میں دنیا نے کبھی نہیں دیکھا ہے ، جو غیر یقینیت کی علامت ہے ۔

سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے ذریعہ جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ آج جو تدابیر اختیار کی گئی ہیں ، وہ جتنی مشکل ہیں ، جامع مالی اور معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے اتنی ہی ضروری بھی ہیں ۔ سرکار کی آمدنی سال ۲۰۲۰ کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کی مساوی مدت کے موازنہ میں 22 فیصد کم ہوئی ہے اور خسارہ نو ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*