بنیادی صفحہ / خلیجی / پہلی مرتبہ عربی مصنفہ کو ملا ’مین بکر انٹرنیشنل پرائز‘، جوخۃ الحارثی نے جیتا ’دِل اور دماغ‘

پہلی مرتبہ عربی مصنفہ کو ملا ’مین بکر انٹرنیشنل پرائز‘، جوخۃ الحارثی نے جیتا ’دِل اور دماغ‘

Print Friendly, PDF & Email

جوخۃ الحارثی نے ’مین بکر انٹرنیشنل پرائز‘ حاصل کر نہ صرف عربی زبان کی پہلی مصنفہ ہونے کا تاج اپنے سر پہن لیا ہے بلکہ وہ عمان کی بھی پہلی مصنف یا مصنفہ ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ابھی تک عربی زبان کے کسی مصنف کو یہ ایوارڈ نہیں ملا تھا اس لیے جیسے ہی جوخۃ الحارثی کو یہ اعزاز دینے کا فیصلہ کیا گیا، پوری دنیا میں ان کی تعریفیں ہونے لگیں۔ خصوصی طور پر عمان میں ادبی حلقہ کے درمیان کافی جوش و خروش دیکھنے کو مل رہا ہے۔

  • پہلی مرتبہ عربی مصنفہ کو ملا ’مین بکر انٹرنیشنل پرائز‘، جوخۃ الحارثی نے جیتا ’دِل اور دماغ‘

دراصل جوخۃ الحارثی نے عربی زبان میں ’سیدات القمر‘ کے نام سے ناول لکھا تھا جس کا انگریزی ترجمہ ’سیلسٹیل باڈیز‘ کے نام سے کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کہانی تین بہنوں اور ایک ریگستانی ملک کی ہے جو غلامی کی اپنی تاریخ سے باہر نکل کر پیچیدہ جدید دنیا کے ساتھ تال میل بنانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ ایک ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ یہ ناول عمان کے نوآبادیاتی ارتقائی دور سے قبل کی کہانی بیان کرتا ہے۔ کتاب کے تعلق سے ایوارڈ پینل میں شامل اور مورخ بٹینی ہگس نے جو کچھ کہا وہ اس کتاب کی اہمیت و افادیت کو بھرپور طریقے سے ظاہر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جس ناول کو اس سال کے مین بکر پرائز کے لیے منتخب کیا گیا ہے اس نے دِل اور دماغ دونوں جیت لیا۔‘‘

x

Check Also

متحدہ عرب امارات میں غیرملکیوں کو کاروبار کے مکمل مالکانہ حقوق دینے کا اعلان

ابوظہبی: دنیائے عرب کی سب سے متنوع اور دوسری بڑی کابینہ نے ...