سعودی عرب کی وزارت صحت نے عالمی ادارہ صحت کی طرف سے مرتب کردہ سفارشات اور کرونا (کوویڈ ۔19) سے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات کی روشنی میں مملکت میں مزید احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

سعود عرب کی وزارت صحت کی سفارشات کی روشنی میں ملک بھر میں تمام سرکاری دفاترمیں اگلے 16 دن تک ملازمین حاضری سےروک دیا ہے۔ حکومت نے عارضی طورپر تعلیمی اداروں کو فاصلاتی تعلیم کا طریقہ کار اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ البتہ محکمہ صحت، قومی سلامتی، مسلح افواج اور سائبر سیکیورٹی جیسے اہم اور حساس محکموں کے ملازمین بدستور اپنے دفاتر میں کام کریں گے۔

کرونا وائرس کے مزید پھیلنے کے خدشے کے تحت فارمیسیوں اور راشن کی دکانوں کے علاوہ دیگر تمام نوعیت کی کاروباری سرگرمیاں بھی روک دی گئی ہیں۔ ہائپر مارکیٹ، سپر مارکیٹ اور کھلی تجارتی منڈیوں کو بھی بند کیا گیا ہے۔ حکومت نے متعلقہ حکام کو صحت کے حوالے سے 24 گھنٹے الرٹ رہنے اور حکومت کی طرف سے پابندیوں کے نفاذ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ حجام کی دکانیں اور خواتین کے بیوٹی سیلون بھی بند کردیے گئے ہیں۔

ملک میں بیشتر ہوٹل اور کھانے پینے کے مراکز بند کردیئے گئے ہیں کھلی فضاء والے مراکز پرصرف ہنگامی حالات میں خوردو نوش کی اجازت ہے مگر صارفین کو ان مراکز کی میز اورکرسیاں استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

پبلک مقامات، سڑکوں، پارکوں، کیمپوں اور سیرگاہوں میں ھجوم کی شکل میں جمع ہونے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔

وزارت برائے دیہی امور نے ملک بھر میں تمام نیلام گھر اور شورومز بند کردیے ہیں۔

وزارت برائے افرادی قوت کی طرف سے تمام کمپنیوں، پرائیویٹ اداروں اور فلاحی اداروں کو ہدایات کی گئی ہیں کہ وہ اپنے دفاترکے عملے کو محدود کریں۔ ان کی جانوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری طبی آلات اور حفاظتی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کسی بیمار اورمشکوک بیماری کے شکار شخص کا فوری طبی معائنہ کرایا جائے اور اسے حکومت کی طرف سے کرونا کے معائنے کے لیے قائم کردہ مراکز میں پہنچایا جائے۔

تمام نجی کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ باہر سے آنے والے تمام ملازمین کو 14 دن کے لیے قرنطینہ منتقل کریں۔