بنیادی صفحہ / کیریر اور تعلیمی خبریں / عالمی کتاب میں میلہ میں دیوبند ،دینی مدارس اور ملی تنظیموںکے بک اسٹال نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں مایوسی ،اس طرح کررہے ہیں شکایات

عالمی کتاب میں میلہ میں دیوبند ،دینی مدارس اور ملی تنظیموںکے بک اسٹال نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں مایوسی ،اس طرح کررہے ہیں شکایات

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی ۔14جنوری()
پرگتی میدان کے سالانہ عالمی کتاب میلہ میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بک ہاﺅسز نے اپنااسٹال لگارکھاہے ،ہندوستان کے مختلف مذاہب کے لوگوں کے بھی بڑے بڑے اسٹال لگے ہوئے ہیں،آر ایس ایس ،بدھ مت ،جین مت ،سکھ مت،عیسائیت اور قادیانیت سمیت مختلف مذاہب کے لوگوں نے بڑی بڑی جگہ لیکر اپنا بک اسٹال لگارکھاہے جہاں سے وہ کتابوں کی فروخت کم کرتے ہیں اور اپنے مذہب کی تشہیرزیادہ کرتے ہیں ،اپنے افکار ونظریات کو فروغ دیتے ہیں،مفت میں لٹریچر تقسیم کرتے ہیں ،اس تناظر میںمذہب اسلام کی وہاں نمائندگی تقریبا نداردتھی ،دینی اور مذہبی کتابوں کے حوالے سے دیوبند کو سب سے بڑا مرکز ماناجاتاہے ،ہندوستان سمیت مختلف ملکوں میں وہاں سے یومیہ ہزاروں روپے کی کتابیں فروخت کی جاتی ہیں لیکن پرگتی میدان کے عالمی کتاب میں میلہ میں دیوبند کے ایک بھی کتب خانہ نے اپنا اسٹال نہیں لگارکھاہے ۔جامع مسجد سمیت متعددعلاقوں میں موجود مذہبی کتابوں کو چھاپنے والے مکتبے بھی یہاں نہیں دکھے ۔مسلمانوں بالخصوص مذہبی امور سے جانکاری حاصل کرنے کے خواہشمند بڑی تعدادمیں وہاں دارالعلوم دیوبند کا بک اسٹال تلاش رہے تھے لیکن انہیں اس وقت بڑی مایوسی کا سامناکرناپڑاجب انہیںپتہ چلاکہ دارالعلوم دیوبند کا اسٹال نہیں لگتا ہے اور اب تک صرف ایک مرتبہ 2012 میں لگاہے ۔ البتہ جماعت اسلامی ہند ، منہاج القرآن انٹرنیشنل مولانا وحید الدین خان کے گڈ ورڈس بک،القرآن اکیڈمی ،اسلامک انفورمیشن سینٹر اور پڑوسی ملک پاکستا ن جاویداحمد غامدی کے المورد کے بک اسٹال وہاں لگے نظر آئے ۔
پرگتی میدان کے عالمی کتاب میلہ کی ہندوستان میں ایک نمایاں شناخت ہے ،لاکھوں لوگ اس میلہ میں جاتے ہیں اور اپنی پسند کی کتابیں خریدتے ہیں، دیگر مذاہب کے ساتھ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں پہونچتی ہے اور وہ دینی کتابیں خریدنا چاہتے ہیں لیکن انہیں مایوسی کا سامناکرناپڑتاہے ۔بطور خاص دارالعلوم دیوبند جیسے ادارہ کا بک اسٹال نہ ہونے کی وجہ سے مسلم طبقہ ،طلبہ مدارس اور فضلاءدارالعلوم میں بیحد بے چینی محسوس کی جارہی ہے ۔
جے این یو کے ایک ریسرچ اسکالر نے ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ جے این یو ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسیٹی سمیت متعدد عصری اداروں میں تقریبا 2500 سے زائد مدارس کے طلبہ زیر تعلیم ہیں ،کتاب میلہ میں بہت شوق سے جاتے ہیں لیکن دارالعلوم دیوبند کا اسٹال نہ ہونے کی وجہ سے انہیں مایوسی کا سامناکرناپڑتاہے ، جمعیة علماءہند ،مرکزی جمعیة اہل حدیث ،اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا ،آئی او ایس جیسے بڑے ا داروں کے بھی وہاں اسٹال نہیں لگے ہیں ۔دارالعلوم دیوبند کی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دہلی برانچ سے وابستہ تین افراد وہاںعلامہ طاہر القادری کے منہاج القرآن میں اپنا کچھ پمفلٹ رکھے ہوئے ہیں جو قادیانیوں کے اسٹال وزٹ کرکے نکلنے والوں کو روکتے ہیں اور انہیں اپنا پمفلٹ دیتے ہیں ۔
واضح رہے کہ دہلی کے پرگتی میدان میں 6-14 جنوری عالمی کتاب میلہ لگاہواہے اور ہزاروں کی تعداد میں شائق میلہ گھوم ررہے ہیں کتابیں خریدر رہے ہیں،ملت ٹائمز کو اطلاع کے مطابق گذشتہ سالوں میں اردو اور مذہب سے متعلق تقریبا 200 بک اسٹال لگتے تھے لیکن اس سال صرف بیس لگے ہیں جس میں سے دس تقریبا مختلف اداروں کے ہیں جیسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،اردو اکیڈمی وغیرہ ۔

 

x

Check Also

ایس ایس ایل سی امتحانات کی منسوخی کے تعلق سے مفاد عامہ کی عرضی کو کرناٹک ہائی کورٹ نے کیا مسترد

بینگلور: 28 مئی،20 (بھٹکلیس نیوز بیورو) چند دن قبل ریاست میں طلبہ ...