بنیادی صفحہ / کیریر اور تعلیمی خبریں / تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا بل اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور، اردو اکیڈمی کا بھی اعلان

تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا بل اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور، اردو اکیڈمی کا بھی اعلان

Print Friendly, PDF & Email

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا بل قانون ساز اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔اسمبلی میں وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کی جانب سے ان کی عدم موجودگی میں وزیر پنچایت راج ٹی ناگیشور راؤ نے اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا بل پیش کیاجسے تمام جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔وزیرپنچایت راج ٹی ناگیشور راؤ نے جناب اکبرالدین اویسی فلور لیڈر مجلس کے مطالبہ پر اردو اکیڈمی کی تشکیل اور سرکاری زبان کمیشن میں اردو کا نمائندہ مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا۔ ٹی ناگیشورراؤ نے کہا کہ ریاست بھر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جارہا ہے وہیں وہ بھی اردو سیکھنے کی کوشش کریں گے۔

اردو چونکہ مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ ہندوستانی زبان ہے ۔ سب لوگ اردو بولتے ہیں اور اسی لئے تمام جماعتوں نے اس کی حمایت کی ہے ۔ وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ خود اردو سے محبت کرتے ہیں۔وزیرپنچایت راج نے کہا کہ تلنگانہ میں موجود اردو کمپیوٹر سنٹرس کو بھی ترقی دی جائے گی۔وزیرموصوف نے کہا کہ سابق میں صرف کھمم کے سوائے ریاست کے 9اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا اب ریاست بھر میں یعنی تمام 31اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان قرار دینے کے لئے بل پیش کیا جارہا ہے ۔

اس مسئلہ پر کانگریس کے رکن اسمبلی جیون ریڈی اور وزیر اسمبلی امور ٹی ہریش راؤ کے درمیان بھی مباحث ہوئے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ سابقہ حکومت کی جانب سے 9اضلاع میں صرف اعلان کیا گیاتھا کہ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے ۔اس پر عمل نہیں کیاگیا گئی ۔ کوئی اردو زبان میں عرضی لینے والا نہیں تھا‘ اسٹاف مقرر نہیں کیا گیالیکن وزیراعلی کے چندرشیکھرراؤ نے اعلان کیا ہے کہ دفتر وزیراعلی ‘ ریاستی وزراء کے دفتر ‘ڈی جی پی کے دفتر ‘ کلکٹرس کے دفاتر میں اردو کے افسروں کی تقرری کی جائے گی۔

حکومت کے اس اہم اور بڑے فیصلہ کو کانگریس چھوٹا کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس مسئلہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے جناب اکبرالدین اویسی فلور لیڈر مجلس نے حکومت کی جانب سے اردو کو دوسری سرکاری زبان مقرر کرنے کا بل پیش کرنے پر وزیراعلی کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ 1966میں متحدہ ریاست میں 9اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اردو زبان کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جاتی رہی ۔ اردو کو اس کا جائزہ حق نہیں دیا گیا۔

مجلس کی جانب سے گزشتہ 50برسوں سے اردو کو مستحقہ مقام فراہم کرنے کے لئے آواز اٹھائی جارہی ہے ۔ متحدہ آندھراپردیش میں مجلس کی جدوجہد کے نتیجہ میں اور مجلس کے مطالبہ پر اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ فراہم کرنے قانون منظور کیا گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے کاسوبرہمانند ریڈی کے دور میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دینے کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ اس مطالبہ پر سخت مخالفت کی گئی ۔

اس وقت ایک بل لایا گیا اور متحدہ ریاست میں مختلف اضلاع کو یونٹ تصور کرتے ہوئے کئی اضلاع میں اردو کو سرکاری زبان کا موقف دیا گیاتھا۔ اس کے باوجود اردو کے ساتھ ناانصافی ہوتی رہی ۔ اس کا جائز حق نہیں دیاگیا۔مجلس کے مطالبہ پر بار بار یہی دہرایا جاتا رہا ہے کہ انصاف کیا جائے گا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی تاریخ تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے لئے ایک یادگار ہے اور اس فیصلہ کو سنہری حرفوں میں لکھا جائے گا۔ اہل اردو آج کی تاریخ کو ہرگز نہیں بھولیں گے۔

سابق میں صرف کھمم میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ نہیں دیا گیاتھا۔ اب مجلس کے مطالبہ پر ریاست کے تمام اضلاع میں اسے دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جارہا ہے۔ سابق میں ایک ضلع کو ایک یونٹ تصور کرنے پر مشکلات پیش آرہی تھیں لیکن اب ریاست کو یونٹ تصور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو حیدرآباد میں پیدا ہوئی ‘لکھنو میں جوان ہوئی ۔وزیراعلی چندرشیکھرراؤ نے خود یہی کہا اردو حیدرآباد میں پیدا ہوئی ۔ حکومت کی جانب سے بل کی پیشکشی پر وہ وزیراعلی کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ مجلسی فلور لیڈر نے کہا کہ ملک بھر میں جموں و کشمیر واحد ریاست ہے جہاں اردو کو پہلی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے اس کے لئے دہلی ریاست میں اردو کو پنجابی کے ساتھ دوسری سرکاری زبان کے ساتھ دوسری سرکاری کا درجہ حاصل ہے ۔

اترپردیش ‘ بہار‘ مغربی بنگال میں اردو کو دیگر18زبانوں کے ساتھ اضافی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ۔ اس طرح سے تلنگانہ ملک بھر میں دوسری ریاست ہوگی جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیا گیا ہے ۔ 1888ء میں اردو کو دکن میں سرکاری زبان کا درجہ دیا گیاتھا۔ قطب شاہی دور میں فارسی زبان سرکاری طور پر استعمال ہوتی تھی۔

x

Check Also

کیرالہ : طالبہ سے گلا ملنے پر اسکول انتظامیہ نے کیا سسپینڈ ، ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ کو رکھا برقرار

ترواننت پورم : کیرالہ ہائی کورٹ نے طالبہ سے گلا ملنے کی ...