بنیادی صفحہ / کیریر اور تعلیمی خبریں / جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کورین زبان کے سرٹیفیکٹ کورس کا آغاز

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کورین زبان کے سرٹیفیکٹ کورس کا آغاز

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ میں غیر ملکی زبانوں میں عربی، فارسی، چینی، ترکی، تائی وانی اور لاطینی امریکی وغیرہ زبانیں پہلے ہی سے پڑھائی جاتی ہیں اور کوریائی زبان ایک نیا اضافہ ہے۔ یہ بات یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے آج کورین زبان و ادب کے کورس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ کوریائی زبان کے کورس کی کامیابی اس بات کو دیکھتے ہوئے طے ہے کہ اس سرٹیفکیٹ کورس کی 30 نشستوں کے لئے 400 درخواستین پہلے ہی آ چکی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ کوریائی زبان سے لیس ہونے والے جامعہ کے طلباء کو کورین کمپنیوں میں روزگار حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اس کورس کے ساتھ جامعہ نے انجینئرنگ اور مینیجمنٹ کی تعلیم حاصل کر رہے طلباء کے لئے کریڈٹ سسٹم کے تحت الیکٹیو کورس کورین زبان میں بھی شروع کیا گیاہے۔ یہ کوریائی زبان کے ساتھ انجینئرنگ یا مینجمنٹ کے طلباء کو کوریا میں ملازمتوں کو آسان بنانے کے لئے مدد گار ثابت ہو گا۔پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ اس موقع پر جامعہ میں منعقد آل انڈیا کورین لینگویج ایجوکیٹر انٹرنیشنل سیمینارز میں دنیا بھر کے لسانی ماہرین شامل ہوں گے۔

 ساوتھ کوریاکے قائم مقام سفیر ہائی کوئینگ لی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کورین زبان کا آغاز ہونا ہندوستان اور کوریا کے مابین خوشگوار پیش رفت ہے جس کے مثبت نتائج مرتب ہوں گے ۔ انھوں نے کہا کہ اس کورس سے جہاں دونوں ممالک کے لسانی اور ثقافتی تعلقات مضبوط ہوں گے وہیں ہندوستان میں ملازم جنوبی کوریائی کمپنیوں میں طلباء کو روزگار حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

قائم مقام سفیر نے کہا کہ ہندوستان کے جامعہ سمیت کئی یونیورسٹیوں میں کوریا زبان شروع ہونے سے ہندوستان میں کوریائی زبان کے پھیلاؤ کے ہماری کوششوں کوتقویت ملے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں کورین کمپنیوں کا مسلسل پھیلاؤ ہو رہا ہے اور ایسے میں کوریائی زبان جاننے والے ہندوستانیوں کی مانگ بھی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ کوریائی زبان پڑھنے والے جامعہ کے طلباء کوریا اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں ثقافتی نمائندے کے بطور اہم کردار ادا کریں گے۔جنوبی کوریا میں ہندوستان کے سابق سفیر ا سکندر رنجن تیال نے اس موقع پر کہا کہ چوتھی صدی میں کوریا میں بدھ مت کے آنے کے بعد سے ہی دونوں طرف کے بودھ راہبوں، طلباء اور دانشوران کا ایک دوسرے کے یہاں آنے جانے کا جاری ہے۔اس موقع پر موضوع سے متعلق ایک کتاب کا بھی اجراء عمل میں آیا۔ اس کورس کے آغاز پر پروگرام میں جامعہ کے وائس چانسلر اور جنوبی کوریا کے قائم مقام سفیر کے علاوہ جامعہ پرو وائس چانسلرشاہد اشرف، پروفسر کم دو ینگ، بین الاقوامی تعلقات کے کوآرڈینیٹر مکیش رنجن، شعبہ عمرانیات و لسانیات کے ڈین پروفیسر وہاج الدین علوی کے علاوہ بڑی تعداد میں اساتذہ اور طلباء موجود تھے۔

x

Check Also

طلبہ کی معطلی کے خلاف احتجاج کے اعلان سے حیدرآباد یونیورسٹی میں کشیدگی ، انتظامیہ اور طلبہ میں لفظی جنگ

حیدرآباد: یونیورسٹی آف حیدرآباد میں آج کشیدگی دیکھی گئی کیونکہ طلبہ کی ...