بنیادی صفحہ / کیریر اور تعلیمی خبریں / پہلی اور دوسری کے طلبہ کو ہوم ورک نہ دیا جائے، بستوں کا وزن بھی طے شدہ حد میں رہے

پہلی اور دوسری کے طلبہ کو ہوم ورک نہ دیا جائے، بستوں کا وزن بھی طے شدہ حد میں رہے

Print Friendly, PDF & Email

نئی دہلی: 27 نومبر، 18 (ایجنسی) مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل نے پیر کو ایک اہم فیصلے میں اول، اور دوم جماعت کے طلبہ کے بستے کے وزن کی حد مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام اسکولں کو ہدایت دی ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے طلبہ کو گھر کا کام (ہوم ورک) نہ دیا جائے۔

سرکاری حکم نامہ کے مطابق وزارت نے ’’تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ طلبہ کو پڑھائے جانے والے مضامین اور بستوں کے بوجھ کے تعلق سے مرکز کے رہنما خطوط کے مطابق ضوابط وضع کئے جائیں۔ ان ہدایات کے مطابق اسکول انتظامیہ پہلی اور دوسری جماعت کو ہوم ورک نہیں دے سکتی ہے۔ سرکاری حکم کے مطابق اول اور دوم جماعت میں طلبہ کو زباندانی اور ریاضی کے علاوہ کوئی مضمون نہ پڑھایا جائے‘‘۔

اس کے ساتھ ہی واضح کیا گیا ہے کہ طلبہ سے اضافی کتابیں اور چیزیں اسکول لانے کے لئے نہ کہا جائے اور بستے کا وزن طے شدہ حد میں رہے۔

حکومت کے طے شدہ ضابطے کے مطابق اول اور دوم جماعت کے طلبہ کے بستے کا بوجھ دیڑھ کلو سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ جبکہ سوم تا پنجم کے طلبہ کا بستہ 2/کلو سے 3/کلو کے درمیان ہونا چاہئے۔ اسی طرح سے چھٹی سے ساتویں جماعت کے طلبہ کا بستہ 4/کلو تک اور آٹھویں تا نویں جماعت کے طلبہ کت بستوں کا بوجھ ساڑھے 4/کلو تک ہونا چاہئے البتہ دسویں جماعت کے طلبہ کا بستہ زیادہ سے زیادہ پانچ کلو وزن کا ہوسکتا ہے۔

 

x

Check Also

اچھی خبر ! اب اس سینٹرل یونیورسٹی میں ملے گی اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس میں ایم بی اے کی ڈگری

اگر آپ ماسٹر ان بزنس ایڈمنسٹریشن ( ایم بی اے ) کرنے ...