بنیادی صفحہ / کیریر اور تعلیمی خبریں / ایک ہزار روپئے سے شروع ہوئی کمپنی اب 6 لاکھ کروڑ کا امپائر بن چکی ہے: مکیش امبانی
Mukesh D. Ambani, chairman of Reliance Industries Ltd., attends the World Economic Forum India Economic Summit 2011 in Mumbai, India, on Sunday, Nov. 13, 2011. The annual summit shifted to the country's financial capital this year after being held in Delhi for 26 years. Photographer: Adeel Halim/Bloomberg via Getty Images

ایک ہزار روپئے سے شروع ہوئی کمپنی اب 6 لاکھ کروڑ کا امپائر بن چکی ہے: مکیش امبانی

Print Friendly, PDF & Email

ممبئی۔ ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ (آر آئی ایل) کمپنی کی شکل میں اپنے 40 سال پورے ہونے کا جشن منا رہی ہے۔ اس کے لئے ممبئی میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں کمپنی کے سربراہ مکیش امبانی سمیت اس کے سبھی بڑے اہلکار موجود رہے۔ آر آئی ایل 23 دسمبر کو ریلائنس فیملی ڈے (آر ایف ڈی) کے طور پر منا رہی ہے۔ اس کے لئے نوی ممبئی واقع ریلائنس کارپوریٹ پارک میں ایک بڑا پروگرام منعقد کیا گیا ہے جس میں کمپنی کے ملازمین اور ان کے گھرانوں نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان سمیت کچھ فلم ستارے بھی شامل ہوئے۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کمپنی کے سربراہ مکیش امبانی نے کہا کہ ریلائنس آج ایک ملازم سے بڑھ کر 2.5 لاکھ کا خاندان بن گیا ہے۔ کمپنی ایک ہزار روپئے سے بڑھ کر 6 لاکھ کروڑ کی کمپنی بن گئی ہے۔ ایک شہر سے پھیل کر 28 ہزار شہروں / قصبوں اور 4 لاکھ گاؤں تک پہنچ گئی  ہے۔ یہ سب صرف دھیروبھائی امبانی کی وجہ سے ہو سکا ہے۔

معروف فلم اداکار امیتابھ بچن نے کہا کہ دھیروبھائی کا خیال تھا کہ لوگوں میں خوشی کے ساتھ ساتھ اپناپن بانٹنے سے بھروسہ بڑھتا ہے۔ شاید، اسی لئے انہوں نے اپنی کمپنی کا نام دیا۔ ریلائنس یعنی بھروسہ۔

پروگرام کے آغاز میں ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے ریلائنس کو قائم کرنے والے دھیرو بھائی امبانی کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا، ” ریلائنس ایک شخص کے ویژن کا نتیجہ ہے۔ میرے والد اور ہمارے بانی دھیرو بھائی امبانی۔ گزشتہ چالیس برسوں میں ہم نے جتنی ترقی کی ہے، وہ انہیں کی بدولت ہے۔ ریلائنس ان کے مضبوط کندھوں پر کھڑا ہے۔

امیتابھ بچن نے کہا زندگی میں ایک دور ایسا آیا جب میں دیوالیہ ہو گیا۔ قرض چڑھ گیا۔ بغیر کوئی سوال پوچھے انہوں نے انل امبانی سے کہا اس کا برا وقت ہے، اسے کچھ پیسے دے دو۔ جتنا وہ دینا چاہ رہے تھے اس سے میری ساری پریشانی ختم ہو جاتی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ میں نے ان سے پیسے نہیں لئے اور کچھ وقت بعد مجھے کام ملنا شروع ہو گیا اور میں بحران سے باہر آ گیا۔

امیتابھ نے مزید کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ دھیروبھائی امبانی کے بارے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے، ان کی زندگی تو ایک کتاب ہے۔ اس طرح ہم بار بار ان کے بارے میں کیوں پڑھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جب ہم گیتا کو بار بار پڑھتے ہیں، تو ہر بار ہمیں ایک نئی سوچ ملتی ہے۔ دھیرو بھائی کی زندگی گیتا مقصد سے کم نہیں تھی۔

x

Check Also

اے ایم یو کو گرین کیمپس کے طور پر فروغ دینے کیلئے تحفظ توانائی پر توجہ ترجیحات میں شامل : طارق منصور

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے الیکٹرکسٹی شعبہ ...