بنیادی صفحہ / کیریر اور تعلیمی خبریں / ماسک لگانے والے ہوشیار ہو جائیں، نمی والے ماسک سے پھیل رہا بلیک فنگس!

ماسک لگانے والے ہوشیار ہو جائیں، نمی والے ماسک سے پھیل رہا بلیک فنگس!

Print Friendly, PDF & Email

سہارنپور: ملک میں کووڈ-19 کے مریضوں میں میوکورمائکوسس (بلیک فنگس) کے بڑھتے ہوئے معاملات کی وجہ ماسک میں نمی تصور کیا جارہا ہے۔ سینئر امراض چشم ڈاکٹر ایس ایس لال نے آج یواین آئی کے ساتھ بات چیت میں کہا ہے کہ میوکورمائکوسس(بلیک فنگس) نامی اس بیماری کے ہونے کے پیچھے طویل عرصے تک کیا گیا ماسک کا استعمال ہوسکتا ہے۔ ماسک پر جمع ہونے والی گندگی کے ذرات کی وجہ سے آنکھوں میں فنگل انفیکشن ہونے کا اندیشہ ہوتاہے۔ ماسک میں نمی سے اس قسم کا انفیکشن ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر لال نے بتایا کہ آئی سی یو میں داخل ہونے والے کووڈ-19 کے مریض کو طویل عرصے تک علاج کے وقت آکسیجن لگائے جانے کی وجہ سے بھی فنگل انفیکشن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کے مریض کو اسٹیرائڈز کی زیادہ خوراک دی جاتی ہے۔ پھر، مریض کی شوگر کی سطح میں اضافہ ہونے سے اس طرح کے انفیکشن میں اضافے کا ایک بڑا اندیشہ رہتا ہے۔

ڈاکٹر لال نے بتایا کہ فنگس کا انفیکشن ناک سے شروع ہوتا ہے۔ جب ناک سے بھورے یا سرخ رنگ کا بلغم باہر نکلتا ہے تو، اس ابتدائی علامت کو بلیک فنگس سمجھا جاتا ہے، پھر آہستہ آہستہ آنکھوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس بیماری میں لالی پن، ڈسچارج ہونا، آشوب چشم کی بیماری کے علامات دکھائی دیتے ہیں۔ آنکھوں میں بہت درد ہوتا ہے اور پھر بینائی بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل کالج میں بلیک فنگس کے علاج کے لئے مناسب انتظامات کئے گئے ہیں۔ مریض کو وقت پر علاج کے ذریعہ بچایا جاسکتا ہے۔

ڈسٹرکٹ اسپتال میں کام کرنے والے ماہر امراض چشم ڈاکٹر کیشو سوامی نے بتایا کہ آب و ہوا میں فنگس پایا جاتا ہے۔ بارش کے موسم میں بلیک فنگس کے پھیلاؤ کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ کووڈ-19 سے شفا یاب ہونے والے افراد روزانہ ماسک ڈٹول میں دھوکر دھوپ میں خشک کر کے ہی پہنیں۔ اس فنگس کا اثر آنکھوں کے ریٹنا پر پڑتا ہے، پھر یہ دماغ، اعصابی نظام اور دل تک پہنچتا ہے جس کی وجہ سے موت ہوجاتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*